پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے بعدنیب آرڈیننس جاری کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے ،ْ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ جنوری

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:26:19 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:36:58 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:30:37 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:30:36 وقت اشاعت: 11/01/2017 - 17:30:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے بعدنیب آرڈیننس جاری کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے ،ْ پی ٹی آئی کا آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ

نیب ترمیمی آرڈیننس پارلیمانی کمیٹی کی توہین ہے ،ْ شاہ محمود قریشی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران گفتگو , حکومت نے جلد بازی میں نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا ،ْ بہت سی خامیاں ہیں ،ْآفتاب احمد خان شیر پائو , اپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس سے اتفاق نہ کیا تو تبدیلی کی جاسکتی ہے ،ْ نیب قانون پر اپوزیشن کی تمام تجاویز کا جائزہ لیا جائیگا ،ْزاہد حامد , آرڈیننس کے ذریعے پلی بارگین اور رضا کارانہ واپسی کے قانون کا خاتمہ وقت کی ضرورت تھی،نیب آرڈیننس کو متنازع نہ بنایا جائے ،ْعبد القادر بلوچ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جنوری2017ء) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے نیب ترمیمی آرڈیننس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے یہ مطالبہ نیب قانون کا از سر نو جائزہ لینے کیلئے قائم کی گئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا۔

بدھ کو پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر قانون زائد حامد کو کمیٹی کا چیئرمین منتخب کرلیا گیا۔شاہ محمود قریشی نے نیب ترمیمی آرڈیننس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے قیام کے بعد صدارتی آرڈیننس جاری کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نیب ترمیمی آرڈیننس پر نظرثانی کے لئے تیار ہے تو پھر اسے واپس لے لیا جائے۔

انہوںنے کہاکہ نیب ترمیمی آرڈیننس پارلیمانی کمیٹی کی توہین ہے۔اس موقع پر آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ حکومت نے جلد بازی میں نیب ترمیمی آرڈیننس جاری کیا، اس میں بہت سی خامیاں ہیں، اگر ہمت ہے تو احتساب قانون میں ججز اور جرنیلوں کو بھی شامل کیا جائے۔اس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر ہمت نہیں ہے تو پھر فاتحہ پڑھ لیتے ہیں۔کمیٹی کے اجلاس میں وزیر قانون زاہد حامد ترمیمی آرڈیننس کا دفاع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ پلی بارگین کے معاملے پر بہت زیادہ تنقید ہورہی تھی،سپریم کورٹ نے رقم کی رضاکارانہ واپسی کے عمل کو بھی معطل کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ نے احتساب کے معاملے پر عوام کے نام کھلا خط لکھا ،ْاپوزیشن نے نیب ترمیمی آرڈیننس سے اتفاق نہ کیا تو اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہی،ْ نیب قانون پر اپوزیشن کی تمام تجاویز کا جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پلی بارگین اور رضا کارانہ واپسی پر پہلے سے اتفاق ہوگیا تھا ،ْیہ غلط قانون تھا جس کے خاتمہ کے لئے آرڈیننس لائے ،ْ سپریم کورٹ میں بھی اس قانون پر تنقید ہوئی اور واضح موقف اختیار کرنے کا کہا گیا۔

زاہد حامد نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے آبزرویشن اور

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/01/2017 - 17:36:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان