حکومت سندھ عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 22:07:30 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:42 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:38 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:46 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:43 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:42 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:27:16 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:24:12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

حکومت سندھ عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے، سید ناصر حسین شاہ

مستقبل کی جدید سفری سہولیات میں بزرگ شہریوں اور معذور افراد کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے، صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ , حکومت سندھ نے سپر ہائی وے پر ایک بڑے بس ٹرمینل کی تعمیر کے لیے 100 ایکڑ اراضی مختص کر دی ہے ، جس پر جلد کام شروع کر دیا جائے گا، سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران اظہار خیال

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) سندھ کے وزیر ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت سندھ صوبے خصوصاً کراچی میں عوام کو بہترین سفری سہولیات کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے ۔ سپر ہائی وے پر ٹول پلازہ کے قریب ایک بڑے بس ٹرمینل کے لیے 100 ایکڑ اراضی مختص کر دی گئی ہے ۔ مستقبل کی جدید سفری سہولیات میں بزرگ شہریوں اور معذور افراد کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ۔

وہ جمعرات کو سندھ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف سوالوں کے جوابات دے رہے تھے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ سندھ ماس ٹرانزٹ بل 18 ماہ تک مجلس قائمہ کے سامنے زیر غور رہنے کے بعد سندھ اسمبلی نے منظور کر لیا ہے ۔ بل کی منظوری میں تاخیر سے ٹرانسپورٹ کے کئی منصوبوں میں تاخیر ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گرین لائن منصوبہ وفاقی حکومت کا اور اورینج لائن سندھ حکومت کا منصوبہ ہے ، دونوں پر اب تیزی سے کام جاری ہے ۔

کراچی ممیں لائٹ ٹرین کا بھی منصوبہ ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گرین لائن منصوبے کی لمبائی 17 کلو میٹر ہے اور اس منصوبے کے تحت یومیہ چار لاکھ افراد سفر کر سکیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ گرین لائن کا منصوبہ پہلے سرجانی سے جمعہ گوٹھ اور پھر محمد علی جناح تک تھا ۔ اب اسے وسعت دے کر اب اسے گرومندر سے ٹاور تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ اس لیے یہ منصوبہ جون 2017 کے بجائے اب 2018 میں مکمل ہوگا ۔

سید ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ اورینج لائن سندھ حکومت کا منصوبہ ہے ، جو پنجاب حکومت جیسا ہے ۔ پنجاب اس منصوبے کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آ رہی ہیں ۔ اس کے بعد سندھ میں اس منصوبے کا نام تبدیل کرنے پر غور کر رہے یہں ۔ اس منصوبے کے تحت اورنگی ٹاؤن سے میٹرک بورڈ آفس تک ٹرانسپورٹ سروس شروع کی جائے گی اور اس کی لمبائی 3.9 کلو میٹر ہے ۔ اس منصوبے کے تحت 8 اسٹیشن قائم کیے جائیں گے اور روزانہ چار لاکھ افراد کو آرام دہ سفر سہولت مل سکے گی ۔

انہوں نے بتایا کہ ایک اور منصوبہ یلو لائن کا ہے جو داؤد چورنگی سے لکی اسٹار تک ہے ۔ اس کی لمبائی 22 کلو میٹر اور منصوبے کے تحت 41 اسٹیشن قائم ہوں گے ۔ اس منصوبے کے تحت ساڑھے 6 سے 7 لاکھ افراد سفر کر سکیں گے ۔ وزیر ٹرانسپورٹ کا کہنا تھا کہ ایک اور منصوبے پرپل لائن کے نام سے زیر غور ہے ، جو بلدیہ ٹاؤن

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 20:26:43 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان