میئر کراچی وسیم اختر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:42 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:38 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:46 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:43 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:42 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:27:16 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:24:12 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:21:09
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

میئر کراچی وسیم اختر نے اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا

کے ایم سی بلڈنگ پہنچنے پر ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد وہرہ سمیت دیگر افسران اور عملے نے بھرپور استقبال کیا ، پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں , ہمارے سامنے ایک نیا چیلنج ہے، اسسے نمٹنے کے لئے ہمیں ایک نئی توانائی ملی ہے،مسائل حل کرنے کے لئے ہم ساری جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے، وسیم اختر

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)میئر کراچی وسیم اختر نے جمعرات کے روز اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا۔ کے ایم سی بلڈنگ پہنچنے پر ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد وہرہ ، میونسپل کمشنر ڈاکٹر بدر جمیل اور محکمہ جاتی سربراہان، افسران اور دیگر عملے نے ان کا بھرپور استقبال کیا، اس موقع پرپھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور میئر کراچی کو گلدستے پیش کئے گئے ۔

اپنے دفتر میں رسمی کارروائی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ ہمارے سامنے ایک نیا چیلنج ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے ہمیں ایک نئی توانائی ملی ہے لہٰذا ہمیں یہ چیلنج قبول ہے ، کراچی کے مسائل حل کرنے کے لئے ہم ساری جماعتوں کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ بلدیاتی انتخابات میں دیگر جماعتوں کے نمائندوں کو بھی ووٹ ملے ہیں لہٰذا ان نمائندوں کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لئے ہمارے ہاتھ مضبوط کریں انہوں نے کہا کہ شہر کے منتخب نمائندوں کی حیثیت سے ہم سب کا مفادمشترک ہے البتہ ہمارے پاس سیٹیں زیادہ ہیں اور ہمیں کراچی کی ترقی اور خوشحالی کے سفر کو جاری رکھنا ہے اور اسے مزید بہتر بنانا ہے،میئر کراچی نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں شہر میں امن قائم کریں اور شہریوں کے مسائل کو حل کریں سب کے علم میں ہے کہ جو اختیار ہمیں حاصل ہے اس میں رہتے ہوئے ان مسائل کو حل نہیں کیا جاسکتا لہٰذا وفاقی ، سندھ حکومت اور وہ ادارے جو اس ملک کو چلاتے ہیں ان سے درخواست ہے کہ بلدیاتی اداروں کو حکومت کی تیسری سطح کی حیثیت سے آئینی تحفظ حاصل ہے اور اس آئین کی موجد اور بانی خود پاکستان پیپلزپارٹی ہے ،جب وفاقی ، صوبائی اور لوکل گورنمنٹ کو آئینی تحفظ حاصل ہے تو پھر لوکل گورنمنٹ کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہوتا ہے۔

صوبے میں بلدیاتی اداروں کے کسٹوڈین وزیراعلیٰ ہیں اور ان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ لوکل گورنمنٹ کو آئین کے تحت اختیارات اوراس کے حصے کا فنڈ دیں تاکہ یہ نچلی سطح کے منصوبوںکوپایہ تکمیل تک پہنچا سکیں، لوکل گورنمنٹ کامیاب ہوگی تو اس کا کریڈیٹ سندھ حکومت کو جائے گا اور اس کا ثمر ریونیو کی شکل میں پورے صوبے کو ملے گالہٰذا یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہم صوبائی حکومت ہی کی ٹیم ہیں اور بلدیاتی سطح پر منتخب ہونے والے لوگ تجربہ کار ٹیم ہے اور اسے معلوم ہے کہ کن علاقوں میں کیا کام کرنے ہیں اور کس طرح کرنے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ٹیم اپنے مقصد سے مخلص اور کرپشن سے پاک ہے لہٰذا اس مستند اور تجربہ کار ٹیم کو استعمال کریں، حلف اٹھانے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 20:26:42 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان