تھرکول مائننگ اینڈ پاور پروجیکٹ تعمیراتی مرحلے میں داخل
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:54 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:52 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:49 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:40:44 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:42 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:26:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:24:18 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 20:24:16
پچھلی خبریں - مزید خبریں

تھرکول مائننگ اینڈ پاور پروجیکٹ تعمیراتی مرحلے میں داخل

تھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)تھرکول مائننگ اینڈ پاور پروجیکٹ تیزی کے ساتھ تعمیراتی مرحلے میں داخل ہوگیا۔ واضح رہے کہ تھر کے صحرا میں کوئلے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں مگر پاکستان میں کوئلے سے بجلی کی پیداوار صفر ہے، اینگرو کوئلہ پر مبنی منصوبے پر مسلسل کام کررہا ہے، اس حوالے سے کوئلے کی کان کنی اور بجلی گھر بلا آخر تعمیراتی مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

سندھ حکومت کے شراکت داری کے ساتھ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی (ایس ای سی ایم سی) کوئلے کی کان کنی کے مجوزہ ہدف کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پیشرفت کرتی نظر آرہی ہے، ایس ای سی ایم سی کو تھربلاک 2 الاٹ کیا گیا ہے جس میں 1 فیصد (ممکنہ1.57ارب ریزرو) کوئلہ ذخائر ہیں جو آئندہ 50 سال 5 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کیلیے کافی ہونگے، کان کے قریب اینگرو 660 میگا واٹ کی گنجائش کا حامل بجلی گھر بھی قائم کر رہی ہے۔

کمپنی سی ای او شمس الدین احمد شیخ نے صحافیوں کو بتایا کہ اپریل 2016 میں منصوبے کے مالیاتی انتظامات مکمل ہوئے، منصوبے کو 42ماہ میں مکمل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، ہم مائننگ پروجیکٹ کا 9.5فیصد کام مکمل کر چکے ہیں جبکہ ہدف 8فیصد تھا،

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 20:26:42 :وقت اشاعت