پاناما لیکس کیس، وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیقتک سخت فیصلہ نہیں دے سکتے، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:47:17 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:47:13 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:22:49 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:43:39 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:43:37 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:43:34 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:43:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:43:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:39:51 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:39:51 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 19:39:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 21/02/2017 - 21:37:30 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 16:36:59 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 17:11:01 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 21:58:11 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 13:34:38 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 03:11:04 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاناما لیکس کیس، وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیقتک سخت فیصلہ نہیں دے سکتے، چیف جسٹس

نیب اور ایف آئی اے نے خود کو فارغ کردیا،صرف تنخواہیں لینے کیلئے بنائے گئے، جب کام کرنے کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں یہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہیں،جسٹس انور ظہیر جمالی , وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں غلط بیانی کی تو نتائج بھگتنا ہونگے،جسٹس اعجاز الحسن، دبئی اسٹیل مل 80 ء میں بیچی، جدہ اسٹیل مل 2001 میں لگائی،21 سال کا وقفہ ہے،حامد خان , وزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے، آپ نے خامیاں بتا دیں، اب دستاویزی ثبوت پیش کریں،جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ریمارکس،سماعت 29نومبر تک ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جب تک وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیق نہ ہو سخت فیصلہ نہیں دے سکتے، نیب اور ایف آئی اے نے خود کو فارغ کردیا ہے ، یہ ادارے صرف تنخواہیں لینے کیلئے بنائے گئے ہیں ، جب کام کرنے کی باری آتی ہے تو کہتے ہیں یہ معاملہ ہمارے دائرہ کار میں نہیں ہے ۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ، جسٹس امیر ہانی مسلم ، جسٹس اعجا ز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ سب سے پہلے درخواست میں نے دی ہے تمام کرپٹ افراد کا احتساب ہونا چاہیے ، پانامہ لیکس میں جو اصل لوگ ہیں ا ن کا احتساب ہونا چاہیے ایسا لگتا ہے کہ کرپشن کیخلاف نہیں ایک مخصوص شخص کیخلاف درخواست ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا اکہ اگر ہم روزانہ کی بنیاد پر نئی درخواستیں وصول کرینگے تو کیس ختم نہیں ہوگا اگر ایسا چلتا رہا تو مرکزی کیس کا فیصلہ نہیں کرسکیں گے ہر سماعت پر پانچ سات نئی درخواستیں آجاتی ہیں درخواست اس وقت حاکم وقت کیخلاف آئی ہے ابتداء انہی سے کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہوگا ۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ ہمیں احتساب کی ابتداء تو کرنے دیں کیا بینچ سے کسی نے کہا ہے کہ ایک کے بعد کسی کا احتساب نہیں ہوگا ۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ شاہد ہم اس معاملے پر دو مختلف آرڈرز جاری کریں۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمیں عدالت سے توقعات ہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ توقعات عورتیں کرتی ہیں طارق اسد صاحب ۔ سماعت کے دوران جماعت اسلامی کے وکیل اسد منظور بٹ نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق نیب اور دیگر اداروں نے کوئی رپورٹ پیش نہیں کی ۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان نے عدالت کو بتایا کہ پانامہ لیکس کا ایشو آئی سی آئی جے نے لیک کیا اور یہ ایشو تین اپریل کو سامنے آیا جس میں وزیراعظم اور ان کے اہلخانہ کا نام شامل تھا۔ پانامہ لیکس میں آئس لینڈ کے وزیراعظم نے اپنا نام آنے پر مستعفی ہوگئے تھے ۔ حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کا متن پڑھ کر سنایا۔

حامد خان نے کہا نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ کس طرح ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر پرویز مشرف تک نے ان کے کاروبار کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ہماری ناکہ بندی کررکھی تھی ہمارے کارخانوں کی تمام چمنیاں ٹھنڈی کردی گئیں حامد خان نے کہا کہ نوا ز شریف کے خطاب میں اٹھارہ ماہ میں چھ فیکٹریاں بنانے کی بات کی گئی جو اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ کہ وزیر اعظم نے 27 اپریل کو پہلا جب کہ اس کے 17 دن بعد دوسرا خطاب کیا، نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 سال پرانے ہیں،وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر کمیشن نے قصور وار ٹھرایا تو گھر چلا جاؤں گا۔

جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ تقریر پڑھ رہے ہیں اس کا کیا فائدہ، اگر ان تقریروں سے تسلی ہوتی تو آپ یہاں نہ ہوتے، جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیاکہ وزیراعظم کے بیان کے مطابق ان کے دوبچے بیرون ملک ہیں، جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے لیکن بچوں کے کاروبار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تقریر کے مطابق وزیر اعظم نے جدہ اسٹیل مل فروخت کرکے بچوں کو کاروبار کروایا، نوازشریف کی تقریر میں ہے کہ ان کے والد نے مکہ میں کارخانہ لگایا، کارخانے کے لیے سعودی بینکوں سے قرضہ لیا، اس خطاب میں لندن کے فلیٹس کا ذکر نہیں، لگتا ہے وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا عہد خود سے کیا ہے قوم سے نہیں جس پر کمرہ عدالت ایک بار پھر قہقہوں سے گونج

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 19:43:34 :وقت اشاعت