سندھ اسمبلی،صبغت اللہ شاہ راشدی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد حکومتی ترمیم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:49:09 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:49:01 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:48:56 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:48:53 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:48:51 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:48:49 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:44:29 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:44:28 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:44:24 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:44:18 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 17:44:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

سندھ اسمبلی،صبغت اللہ شاہ راشدی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی قرارداد حکومتی ترمیم کے بعد منظور

حکومت سندھ ایوان میں پہلے سے منظور کر دہ قرار داد پر عمل درآمد کر کے ہر سال 20 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان کرے،نصرت سحر عباسی , پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کا جو رتبہ ،مقام ہے ، وہ بہت بڑا ہے ،یوم شہادت پر عام تعطیل پھر سندھ میں نہیں ملک گیر سطح پر ہونی چاہئے،نثار کھوڑو

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں جمعرات کو مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی کی جانب سے تحریک آازادی کے عظیم ہیرو پیر سید صبغت اللہ شاہ راشدی کو خراج عقیدت پیش کرنے اور ان کے یوم شہادت پر 20 مارچ کو عام تعطیل کے اعلان سے متعلق قرار داد بحث و مباحثے اور تلخ جملوں کے تبادلوں کے بعد حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ترمیم کے ساتھ منظور کر لی گئی جبکہ ایوان نے قرآن پاک کی تعلیم اسکولوں میں لازمی قرار دینے ، کالے پتھر کی فروخت اور کھلے عام دستیابی پر پابندی لگانے سے متعلق نجی قرار دادوں کو بھی منظور کر لیا ۔

ایوان کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے اپنی نجی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے اپنی جان قربان کر دی ۔ انہوں نے اپنی قرار داد میں کہا کہ سندھ اسمبلی شہید اسلام سید صبغت اللہ شاہ راشدی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے حکومت سندھ اس ایوان میں پہلے سے منظور کر دہ قرار داد پر عمل درآمد کرتے ہوئے ہر سال 20 مارچ کو عام تعطیل کا اعلان کرے ۔

نصرت سحر عباسی نے کہا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کی تاریخی جدوجہد ہے ۔ جنہوں نے اس ملک اور اس دھرتی کے لیے جام شہادت نوش کرنا قبول کیا ۔ ان کی تاریخی جدوجہد کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے اور حکومت سندھ ہر سال 20 مارچ کو صوبے میں عام تعطیل کا اعلان کرے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں ایک مرتبہ اس دن چھٹی دی گئی ہے ، ہر سال یہ چھٹی ہونی چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کچھ لوگوں نے انگریزوں سے سر کے خطاب لیے ۔ جاگیریں اور زمینیں لیں لیکن سوریہ بادشاہ نے شہادت قبول کرنا پسند کی ۔ ایم کیو ایم کے سید سردار احمد نے کہا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کی قربانیاں اور جدوجہد آزادی بے مثال ہے ۔ بدقسمتی سے سندھ کے لوگوں کو اپنی ہی تاریخ کا صحیح طور پر علم نہیں ہے ۔

پیر صاحب مرحوم نے حر تحریک کو منظم کیا اور انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلائی ۔ جس کے نتیجے میں ان کے خلاف مقدمات بھی بنائے گئے اور ایک مرتبہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ان کے وکیل کے طور پر پیش ہوئے ۔ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی آخری وقت تک انگریزوں سے لڑتے رہے ۔ ان کے سامنے جھکے نہیں اور بالآخر پھانسی کے پھندے کو چوم لیا ۔ انہوں نے کہا کہ اگر 20 مارچ کو ان کے یوم شہادت پر چھٹی کا اعلان کر دیا جائے تو کوئی حرچ نہیں ہے ۔

اس موقع پر سینئر وزیر پارلیمانی امور نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی سندھ کے نہیں ملک کے عظیم ہیرو ہیں ۔ ان کے علاوہ بھی بہت سارے گمنام ہیرو ہیں ۔ حر تحریک جنگ عظیم دوئم سے پہلے کی بات ہے ۔ لوگوں نے ریشمی رومال تحریک میں بھی بہت سی قربانیاں دیں ۔ انہوں نے کہا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کا جو رتبہ اور مقام ہے ، وہ بہت بڑا ہے ۔

اس لیے ان کے یوم شہادت پر عام تعطیل پھر سندھ میں نہیں بلکہ ملک گیر سطح پر ہونی چاہئے اور اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے بات کرنی چاہئے ۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کو خراج عقیدت اور سلیوٹ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ میں شہیر ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بے نظیر بھٹو کو سلام عقیدت کیوں نہ پیش کروں جنہوں نے پاکستان کو بچانے کے لیے اپنی زندگیاں قربان کیں ۔

جس طرح پاکستان بنانے والوں کو یاد رکھنا ضروری ہے اسی طرح پاکستان بچانے والوں کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو اور شہید بی بی بھی اپنے یوم شہادت پر عام تعطیل کی مستحق ہیں لیکن انہیں عام تعطیل نہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پیر صبغت اللہ راشدی اتنا بڑا نام ہے کہ اس قرار داد کی مخالفت کرنا میرے لیے ممکن نہیں لیکن یہ قرار داد اس انداز میں نہ آتی تو مناسب تھا اور پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے یوم شہادت پر صرف سندھ میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تعطیل ہونی چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم پر زیادہ تعطیلات دینے پر بھی تنقید کی جاتی ہے ۔ نثار کھوڑو کے اس بیان پر نصرت سحر عباسی چراغ پا ہو گئیں اور انہوں نے شور مچاتے ہوئے کہا کہ یہ قرار داد پہلے ہی سندھ اسمبلی منظور کر چکی ہے ۔ میں صرف اس پر عمل درآمد کے لیے کہہ رہی ہوں ۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ 20 مارچ ابھی دور ہے ۔ ان کی پارٹی بھی قومی اسمبلی میں موجود ہے ۔

ہماری جماعت بھی وہاں ہے ۔ یہ معاملہ قومی اسمبلی میں ایک مرتبہ چھیڑیں تو سہی تاکہ قومی سطح پر پیر صبغت اللہ کے یوم شہادت پر عام تعطیل ہو سکے ۔ اس موقع پر نصرت سحر عباسی اور نثار کھوڑو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا اور نصرت سحر عباسی نے کہا کہ کھوڑو صاحب قرار داد کی مخالفت کرکے اچھا نہیں کیا ہے ۔ جس پر نثار کھوڑو نے کہاکہ نصرت سحر عباسی مجھے دھمکی دے رہی ہیں ۔

اس موقع پر اسپیکر آغا سراج درانی نے مداخلت کرتے ہوئے حزب اختلاف اور حزب اقتدار کے ارکان سے کہا کہ وہ مفاہمانہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 18:48:49 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان