جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کا جرائم کی عالمی عدالت سے علیحدگی کا اعلا ن
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:18:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:18:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:18:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:18:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:18:55 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:11:11 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:11:08 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:11:05 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:10:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 18:07:35 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 17:53:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کا جرائم کی عالمی عدالت سے علیحدگی کا اعلا ن

روسی صدر نے بھی عدالت سے علیحدہ ہونے کے فیصلہ کی توثیق کر دی

ہیگ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)تین افریقی ممالک جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا نے جرائم کی عالمی عدالت سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا،انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے حامیوں نے افریقہ کے تین ملکوں کی طرف سے اس ادارے سے الگ ہو جانے اور روس کی طرف سے اس کی طرف انتہائی معاندانہ رویے کے بعد اتحاد قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔نیدرلینڈ کے شہر ہیگ میں عدالت کے رکن ممالک کے سالانہ اجلاس کے پہلے دن جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کے الگ ہوجانے کا مسئلہ ہی زیر بحث رہا۔

عالمی دائرہ اختیار کی حامل اس عدالت کے سنہ 2002 میں قیام کے بعد سے اب تک کسی ملک نے اس سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں کیا تھا جو کہ اب جنوبی افریقہ، برونڈی اور گیمبیا کی طرف سے سامنے آیا ہے۔روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ایک حکم نامے پر دستخط کیے جس میں اس عدالت سے علیحدہ ہونے کے فیصلہ کی توثیق کی گئی ہے۔ماسکو نے روم کے قانون کی کبھی توثیق نہیں کی جس کی روح سے وہ کبھی اس عدالت کا رکن نہیں رہا حالانکہ روس نے سنہ 2000 کے اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت روم کا قانون بنایا گیا تھا۔

بین الاقوامی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر فیٹو بنسودا نے تین افریقی ملکوں کے عدالت سے نکل جانے کے معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ یہ روم کے قانونی نظام کا بحران نہیں ہے بلکہ ایک منصفانہ اور پر امن دنیا کے قیام کی مشترکہ کوششوں کے لیے ایک دھچکہ ہے۔بنسودا جن کا تعلق گیمبیا سے ہے انھوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جرائم کے انسداد اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس عدالت میں ملکوں کی شمولیت کو نہ صرف مستحکم کیا جائے بلکہ اس کو وسعت دی جائے۔

کینیڈا کے وزیر خارجہ سٹیفن ڈیون نی124 ملکوں کے مندوبین سے اپنے خطاب میں عدالت سیبھرپور تعاون کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ جو عناصر سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔لیکن جنوبی افریقہ کے وزیر انصاف مائیکل ماتھورا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 18:11:11 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان