پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاست‘ معیشت‘ دفاع‘ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:54:15 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:54:13 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:54:09 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:52:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:48:05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاست‘ معیشت‘ دفاع‘ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کی ضرورت ہے

پاکستان نے اپنی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر عملدرآمد کرتے ہوئے مسلم امہ کے لئے ایک اہم مثال قائم کی ہے , ترکی کو کشمیر میں حالیہ بھارتی مظالم پر گہری تشویش ہے اور وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں ہے،اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرینگے‘ دونوں ملکوں کو مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کا حل نکالنا چاہیے‘ بین الاقوامی طاقتوں کو بھی اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ اور اچھے تعلقات خطے کے لئے ضروری ہیں , ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکی کے درمیان سیاست‘ معیشت‘ دفاع‘ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر عملدرآمد کو کامیابی کے ساتھ سرانجام دینے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم امہ کے لئے ایک اہم مثال قائم کی ہے‘ ترکی کو کشمیر میں حالیہ بھارتی مظالم پر گہری تشویش ہے اور وہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کا خواہاں ہے اور اس ضمن میں وہ اپنا کردار ادا کرے گا‘ دونوں ملکوں کو مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے‘ بین الاقوامی طاقتوں کو بھی اس ضمن میں کردار ادا کرنا چاہیے‘ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوستانہ اور اچھے تعلقات خطے کے لئے ضروری ہیں۔

جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ میں آپ سب کو اپنی‘ اپنے وفد اور ترک قوم کی جانب سے دلی جذبات‘ احترام‘ محبت و خلوص بھرا سلام پیش کرتا ہوں۔ میں ترکی سے آپ سب کے لئے محبتیں سمیٹنے ہوئے آیا ہوں۔ میں ایک بار پھر تمام تر پاکستانی بھائیوں سے اپنی محبت‘ احترام اور خلوص کا اظہار کرتا ہوں۔

2012ء کے دورہ پاکستان کے دوران بھی میں نے قومی اسمبلی و سینٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ تقریباً ساڑھے چار سال بعد قومی حاکمیت کی علامت ہونے والے اس ادارے کی چھت تلے ایک بار پھر آپ کے ساتھ یکجا ہونا میرے لئے انتہائی مسرت کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی اقدار کے تحفظ کے ساتھ ساتھ جمہوریت پر عملدرآمد کو کامیابی کے ساتھ سرانجام دینے کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلم امہ کے لئے ایک اہم مثال قائم کی ہے۔

اس احسن کامیابی پر آپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان کے تعلقات کسی دو ملکوں کے مابین سفارتی رابطے کی سطح سے کہیں ہٹ کر خصوصیات کے مالک ہیں۔ ترک صدر نے کہا کہ ہم صرف الفاظ تک ہی نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں دو برادر ملک ہیں۔ ہمارے عوام کے درمیان اس قدر گہری دوستی اور محبت کا ناطہ پایا جاتا ہے کہ ہم پاکستانی بھائیوں کی خوشی اور غمی میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ آپ کے جذبات بھی اسی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مملکت و اقوام نے تاریخی اعتبار سے اسی مفاہمت کا کھل کر مظاہرہ کیا ہے۔ مولانا جلال الدین رومی وسیع معنوں میں اسی جغرافیہ پر جنم لینے والے اپنے فیض و علم کو اناطولیا سے دنیا بھر تک پھیلانے والے ایک مشترکہ اثاثہ اور اقدار ہیں۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں گزشتہ ایک صدی کی پیشرفت کا جائزہ لینے سے ہماری باہمی دوستی کی گہرائی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معرکہ چناک قلعے کے دوران ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھائیوں کے انتہائی کٹھن حالات میں ہماری مدد کو پہنچنے کو ہم نے نہ کبھی فراموش کیا نہ کبھی کر سکتے ہیں۔ ہماری جنگ نجات کے دوران بھی پاکستان کی امداد اور تعاون ہمیشہ ہماری یادداشتوں میں زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کی جمہوریہ ترکی کی بنیادوں پر بلقانی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ کی مدد کو دوڑے چلے آنے والے معرکہ چناک قلعہ اور بعد ازاں جنگ نجات میں شرکت کرنے والے اعلان جمہوریت کے بعد بھی ہمارے وطن کے لئے وسیع پیمانے پر خدمات سر انجام دینے والے عبدالرحمان پشاوری کی طرح کے متعدد پاکستانی ہیروز کی محنت و مشقت کارفرما ہے۔

انہوں نے عبدالرحمان پشاوری کے حوالے سے بتایا کہ ان کی والدہ محترمہ نے اب گھر لوٹ آنے کا پیغام بھیجا تھا جس پر ہمارے بھائی نے یہ جواب دیا تھا کہ اناطولیا پر دشمن کا قبضہ ہونے کے وقت میں کیسے واپس لوٹ سکتا ہوں۔ ہماری نظروں میں علامہ محمد اقبال اور محمت عاکف ایک جیسے ہیں۔ آپ ہماری آزادی اور درخشاں مستقبل کے شعراء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1999ء کے ہولناک زلزلے کے بعد سب سے زیادہ مدد و تعاون پاکستانی بھائیوں نے ہی فراہم کیا تھا جسے ہم کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔

انہوں نے بتایا کہ 2014ء میں صوما ترکی میں پیش آنے والے کان کے المیہ پر پاکستان نے ایک روزہ سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے بھی دسمبر 2015ء میں پشاور کے ایک سکول میں بیسیوں معصوم طلباء کی شہادت پر ایک دن کے لئے سرکاری طور پر سوگ منایا تھا۔ ماضی سے چلے آنے والے اور ہر دور میں ترو تازگی کو برقرار رکھنے والے ہمارے یہ مضبوط تعلقات ترکی اور پاکستان کو ایک دوسرے کے لئے خاص بناتے ہیں۔

ہم انشاء اللہ تعالیٰ اس بھائی چارے اور باہمی تعاون کے ماحول کو دنیا بھر میں مقبول و عام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں 15 جولائی کی بغاوت کی ناکام کوشش کے بعد حکومتی انتظامیہ اسمبلی اور عوام کے طور پر پاکستان کے ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہونے والے پہلے ملک ہونے کا میں یہاں پر خصوصی طور پر ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ ہم نے پاکستان کی قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد کا بڑی احسان مندی کے ساتھ خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی پر مشتمل ایک وفد کا اگست میں ترکی کی حمایت میں دورہ ہماری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حوصلہ افزاء ثابت ہوا ہے۔ پاکستان نے دہشتگرد تنظیم فیتو کے 15 جولائی کے بغاوت کے اقدام کے خلاف اپنے واضح موقف کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسری جنگ نجات میں ترک قوم کے ساتھ ہونے کی یاد تازہ کی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے اس تعاون پر خوش اور روز آخر تک اس تعاون کو قائم و دائم رکھے۔

انہوں نے پاکستان کی حمایت و تعاون کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وساطت سے یہ واضح کرتا چلوں کہ فیتو نہ صرف ترکی بلکہ سرگرم عمل ہونے والے تمام تر ملکوں کے لئے خطرہ تشکیل دینے والی ایک خونی دہشتگرد تنظیم ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ اس دہشتگرد تنظیم کو پاکستان کو نقصان پہنچانے سے قبل ہی قلیل مدت کے اندر ملیا میٹ کردیا جائے گا۔

ترک صدرنے کہا کہ میں حکومت پاکستان کے اس ضمن میں حالیہ فیصلوں کو بروقت قرار دیتا ہوں اور فیتو کے خلاف ہماری جنگ میں مضبوط تعاون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس دہشتگرد تنظیم کے خلاف ہمارا باہمی تعلق مزید فروغ پاتے ہوئے جاری رہنا چاہیے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ القاعدہ اور اس کے ایک عنصر کے طور پر منظر عام پر آنے والی داعش کی طرح کی دہشت گرد تنظیمیں‘ صرف اور صرف مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور دین اسلام کے خلاف جاری جنگ کا آلہ کار بنی ہوئی ہیں۔

مسلمانوں کا خون بہانے کے علاوہ کوئی دوسرا مقصد نہ رکھنے والے ان قاتل ریوڑوں کو ہمیں قلیل مدت کے اندر مسلم امہ اور دنیا بھر سے کاٹ پھینکنا ہوگا۔ وگرنہ ترکی‘ پاکستان اور نہ ہی امت مسلم میں امن و آشتی آئے گی۔ اگر ہم اس پیارے دین کے پیروکار کے طور پر‘ ہاتھ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 16:52:23 :وقت اشاعت