وزیراعظم کے بچوں کا موقف سچ ثابت ہوا تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوجائیگا ،ْسپریم کورٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:31:23 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:31:18 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:26 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:21 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:18 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:19:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:17 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:14 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:13 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:29:12
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

وزیراعظم کے بچوں کا موقف سچ ثابت ہوا تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوجائیگا ،ْسپریم کورٹ کی حامد خان کو ٹھوس ثبوت پیش کر نے کی ہدایت

وزیراعظم پر الزامات کی 100فیصد تصدیق ہونے تک کسی انتہاء پر نہیں جائینگے ،ْ الزامات ثابت کرنے کیلئے ٹھوس ثبوت لانا ہونگے ،ْ عدالت عظمیٰ , احتساب کی ابتداء حاکم وقت سے ہونے میں کوئی مضائقہ نہیں ،ْچیف جسٹس , وزیراعظم کے بیانات میں تضاد موجود ہے ،ْوکیل عمران خان , دستاویزات سے بتائیں بیانات میں کیا تضاد ہے ،ْ جسٹس اعجازالاحسن , حکمران جماعت کی دستاویزات میں سقم کی نشاندہی کریں، نوازشریف کی تقریروں میں دفاع اپنی جگہ ،ْہم نے عدالت میں دفاع دیکھنا ہے، ہمیں مطمئن کر دیں تو ہم کہیں گے گھر جائیں اور آرام کریں ،ْوزیر اعظم کی پوری زندگی کی سکروٹنی نہیں کرینگے ،ْ ججز کا حامد سے مکالمہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان کو پاناما کیس کے حوالے سے ٹھوس ثبوت پیش کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم کے بچوں کا موقف سچ ثابت ہوا تو آپ کا دعویٰ فارغ ہوجائیگا ،ْ وزیراعظم پر الزامات کی سو فیصد تصدیق ہونے تک ہم کسی انتہا پر نہیں جائینگے ،ْ الزامات کو ثابت کرنے کیلئے ٹھوس ثبوت لانا ہوں گے جبکہ ججز نے سماعت کے دور ان پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کی دستاویزات میں سقم کی نشاندہی کریں، نوازشریف کی تقریروں میں دفاع اپنی جگہ ،ْہم نے عدالت میں دفاع دیکھنا ہے، ہمیں مطمئن کر دیں تو ہم کہیں گے کہ گھر جائیں اور آرام کریں ،ْوزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم کیخلاف پاکستان تحریک انصاف ،ْ جماعت اسلامی ،ْ عوامی مسلم لیگ ،ْجمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ،ْجسٹس امیرہانی مسلم ،ْجسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل 5 رکنی لارجر بینچ نے کی۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے کہاکہ عدالت فوکس کر رہی ہے کہ اصل مقدمے کو چلایا جائے ،ْعدالت کے سامنے ہر روز نئی متفرق درخواستیں آجاتی ہیں ،ْمتفرق درخواستیں مناسب وقت پر سنیں گے روزانہ کی بنیاد پر ان درخواستوں کو نہیں سن سکتے، متفرق درخواستیں چلتی رہیں تو اصل کیس نہیں سن پائیں گے۔سماعت کے دوران درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پرویزمشرف، عمران خان، انور سیف اللہ کیخلاف کارروائی کرے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو کہیں سے تو کام شروع کرنا ہو گا چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے استدعا کی ہے کہ معاملے نیب کو بھجوا دیا جائے ،ْیہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ کسی ایک شخص کا احتساب ہو رہا ہے ،ْ حاکم وقت تو ایک ہے، اگر ابتدا حاکم وقت سے کی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ کس نے کہہ دیا کہ باقی لوگوں کا احتساب نہیں ہو گا ،ْعمران خان کی درخواست پر وزیراعظم کا احتساب ہو رہا ہے۔ باقی درخواستوں میں جن کے نام ہیں ان کا بھی احتساب ہو گا ،ْ جماعت اسلامی کے وکیل نے کہا کہ نیب نے ابھی تک عدالت کو کوئی رپورٹ نہیں دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے رپورٹ دے دی ہے۔ نیب نے کہا ہے کہ ان کا اختیار ہی نہیں ہے، تنخواہیں لینے کیلئے ادارے بنائے گئے ہیں، کارکردگی دکھانے کی بات آتی ہے تو ادارے کہتے ہیں ان کا اختیار نہیں۔

سماعت کے دور ان عمران خان کے وکیل حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کا متن پڑھ کر سنایا۔عمران خان کے وکیل حامد خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 3اپریل 2016 کو پاناماپیپرز کا انکشاف ہوا۔ وزیراعظم اور ان کے بچوں کا نام آف شور کمپنیوں میں آیا ،ْپاناماپیپرز میں نام آنے پر آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیدیا ،ْ 5 اپریل کو وزیراعظم نے قوم سے خطاب کیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا وزیراعظم کے خطاب کی ریکارڈنگ دستیاب ہی حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم کے خطاب کی ریکارڈنگ دستیاب ہے اور خطاب کا متن بھی عدالت کو دے چکے ہیں۔ حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ 1972 میں اتفاق فاؤنڈری قومیا لی گئی، اتفاق فاؤنڈری 1979 میں واپس ملی، 1989 میں بحری جہاز سے سامان نہ اتارنے دیا گیا۔ 1999 میں ملک بدر کر دیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ جدہ کی سٹیل مل فروخت کی تو حسن نواز اور حسین نوازنے اپنے کاروبار میں وہ اثاثے استعمال کئے۔ وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں لندن کے اپارٹمنٹس اور دبئی سرمایہ کاری کا ذکر نہیں کیا۔ انہوں نے بچوں کو کاروبار کیلئے سرمایہ جدہ مل فروخت کر کے دیا۔ جسٹس اصف سعید نے کہا کہ وزیراعظم نے خطاب میں نہیں کہا کہ مل فروخت کر کے فلیٹس لندن میں خریدے۔

وزیراعظم نے خطاب میں کہا جدہ سٹیل مل کے پیسوں سے بچوں نے کام شروع کیا۔ حامد خان نے بتایا کہ 22 اپریل کو وزیراعظم نے قوم سے دوبارہ خطاب کیا اور میرے عزیز ہم وطنو سے خطاب شروع کیا۔ جسٹس آصف سعید نے کہا کہ کیا خطاب کا آغاز میرے عزیز ہم وطنو سے نہیں ہوتا جسٹس آصف سعید کے ریمارکس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔ حامد خان نے کہا کہ میرے عزیز ہم وطنو تو فوجی آمر استعمال کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے خطاب میں اعلان کیا کہ الزامات درست ثابت ہوئے تو گھر چلے جائیں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کی کمٹمنٹ اپنے آپ سے تھی، آپ کے ساتھ نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پانامالیکس پر الزامات 22سال پرانے ہیں، کیا اس حوالے سے کسی ادارے نے تحقیقات کی تھیں جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ حدیبیہ پیپرز اور طیارہ سازش کیس کے علاوہ کون سے مقدمات ہیں حامد خان نے کہا کہ یہ وزیراعظم کی ذمہ داری ہے کہ اپنے دستاویزات عدالت پیش کریں۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ تقریر پڑھ رہے ہیں، اس کا کیا فائدہ۔ وزیراعظم کے بیان سے تسلی ہو جاتی تو آپ یہاں نہ کھڑے ہوتے۔ حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں خود کو احتساب کیلئے پیش کیا جسٹس شیخ عظمت نے کہا کہ وزیراعظم کا خطاب سیاسی تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ وزیراعظم نے خطاب میں غلط بیانی کی تو اس کے قانونی نتائج ہوں گے۔

جسٹس آصف سعید نے کہا کہ وزیراعظم نے پہلے بیان مین اثاثوں کی وضاحت پیش کی، وزیراعظم کا دوسرا بیان سیاسی لگتا ہے۔ حامد خان نے کہا کہ وزیراعظم نے مئی میں قومی اسمبلی میں خطاب کیا، اپوزیشن اور حکومت میں ٹی او آرز کے معاملات طے نہ پا سکے۔ جسٹس شیخ عظمت

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 16:29:18 :وقت اشاعت