پاناما لیکس، عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف سے مزید ثبوت مانگ لئے ،سماعت 30نومبر تک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:13:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:13:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:12:35 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:12:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:12:30 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:12:25 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:35 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:32 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:30 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:26 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:24
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پاناما لیکس، عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف سے مزید ثبوت مانگ لئے ،سماعت 30نومبر تک ملتوی

کیا وزیراعظم کے بیان پر ہم قرار دیں کہ لندن کے فلیٹس کالے دھن سے خریدے گئے، جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے، پاناما کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے، انکوائری کمیشن تمام شواہد کا جائزہ لے سکتا ہے جب تک وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیق نہ ہو سخت فیصلہ نہیں دے سکتے ،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریمارکس , وزیراعظم کے بچے کہتے ہیں دبئی کی اسٹیل مل قرضہ لے کر قائم کی ، اگر وزیراعظم کے بچوں نے دستاویزات سے خریداری ثابت کردی تو آپ کا کیس فارغ ہوگا،جسٹس عظمت سعید , نوازشریف واضع کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات مسترد کیے، پاناما لیکس میں جوالزمات لگائے گئے وہ 22سال پرانے ہیں، کیا ملک کے کسی ادارے نے تحقیقات کیں،کیا ماضی میں وزیر اعظم پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات اور نتائج سامنے آئے،کیاان مقدمات کے حوالے سے کوئی دستاویزات موجود ہیں،جسٹس آصف سعید کھوسہ , وزیراعظم نے عمران خان کی دستاویزات جھوٹی قرار دیدیں ،درخواست سپریم کورٹ میں دائر , عمران خان کی دستاویزات غیر متعلقہ،غلط اور ناقابل قبول ہیں،ضرورت پڑی تو اعتراض اٹھایا جائے گا،وزیراعظم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے پی ٹی آئی سے ایک بار پھر ٹھوس ثبوت مانگ لئے، چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس میں کہا کہ کیا وزیراعظم کے بیان پر ہم قرار دیں کہ لندن کے فلیٹس کالے دھن سے خریدے گئے، جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتیں کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے، آپ کو پاناما کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے، انکوائری کمیشن تمام شواہد کا جائزہ لے سکتا ہے جب تک وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیق نہ ہو سخت فیصلہ نہیں دے سکتے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کا متن پڑھ کر سنایا۔ حامد خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے 27 اپریل کو پہلا جب کہ اس کے 17 دن بعد دوسرا خطاب کیا، نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 سال پرانے ہیں،وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر کمیشن نے قصور وار ٹھرایا تو گھر چلا جاؤں گا۔

جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ تقریر پڑھ رہے ہیں اس کا کیا فائدہ، اگر ان تقریروں سے تسلی ہوتی تو آپ یہاں نہ ہوتے، جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیاکہ وزیراعظم کے بیان کے مطابق ان کے دوبچے بیرون ملک ہیں، جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے لیکن بچوں کے کاروبار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تقریر کے مطابق وزیر اعظم نے جدہ اسٹیل مل فروخت کرکے بچوں کو کاروبار کروایا، نوازشریف کی تقریر میں ہے کہ ان کے والد نے مکہ میں کارخانہ لگایا، کارخانے کے لیے سعودی بینکوں سے قرضہ لیا، اس خطاب میں لندن کے فلیٹس کا ذکر نہیں، لگتا ہے وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا عہد خود سے کیا ہے، قوم سے نہیں۔

نوازشریف واضع کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات مسترد کیے، پاناما لیکس میں جوالزمات لگائے گئے وہ 22سال پرانے ہیں، کیا ملک کے کسی ادارے نے تحقیقات کیں،کیا ماضی میں وزیر اعظم پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات اور نتائج سامنے آئے۔ کیاان مقدمات کے حوالے سے کوئی دستاویزات موجود ہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ کیا لندن کے فلیٹس ان مقدمات میں شامل تھے،جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ جائیداد ان مقدمات میں شامل نہیں جن پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔

جسٹس عظمت سعید کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے، ایک بھی الزام پر دوبارہ تحقیق ہوئی تو پھر یہ دوہرا ٹرائل ہوگا۔ حامد خان آپ وکالت نہیں سیاست کررہے ہیں،1981 میں وزیر اعظم نے 300 روپے ٹیکس دیا یا250، یہ ہمارا مقدمہ نہیں، ایسالگ رہاہے مقدمہ جس سمت میں جارہا ہے کبھی ختم نہیں ہوگا۔حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ دو بیٹے بیرون ملک ہیں جہاں وہ کاروبار کرتے ہیں، 1976 میں پیدا ہونے والا حسن نواز 1984 میں لندن پہنچا، وزیر اعظم کی تقریروں میں کوئی ٹائم فریم نہیں بتایا کہ دبئی اسٹیل مل 80 کی دہائی میں بیچی اور جدہ اسٹیل مل 2001 میں لگائی، دبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا وقفہ ہے، دستاویز میں جون 2005 میں اسٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکن خریدنے کی تاریخ نہیں۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے بچے کہتے ہیں دبئی کی اسٹیل مل قرضہ لے کر قائم کی ، اگر وزیراعظم کے بچوں نے دستاویزات سے خریداری ثابت کردی تو آپ کا کیس فارغ ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا وزیراعظم کے بیان پر ہم قرار دیں کہ لندن کے فلیٹس کالے دھن سے خریدے گئے، جب تک تفصیل سے تحقیقات نہیں ہوتیں کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچیں گے، آپ کو پاناما کیس میں ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے، انکوائری کمیشن تمام شواہد کا جائزہ لے سکتا ہے، جب تک وزیراعظم پر سو فیصد الزامات کی تصدیق نہ ہو سخت فیصلہ نہیں دے سکتے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم وزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے، آپ نے خامیاں بتا دیں، اب دستاویزی ثبوت پیش کریں۔ پراپرٹی ٹیکس کے معاملات ہمارے پاس نہیں، ہم آپ سے پرامید ہیں کہ وزیر اعظم کے جوابات پر اعتراضات اٹھائیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 30 نومبر کو ہوگی۔دوسری جانب پانامہ پیپرز کے معاملے پر وزیراعظم کی قانونی ٹیم نے عمران خان کی دستاویزات پر اعتراض کا حق محفوظ رکھنے کا موقف اختیار کرتے ہوئے درخواست سپریم کورٹ میں دائر کردی،قانونی ٹیم نے کہا ہے کہ عمران خان کی دستاویزات غیر متعلقہ،غلط اور ناقابل قبول ہیں،ضرورت پڑی تو اعتراض اٹھایا جائے گا،وزیراعظم کی جانب سے اعتراضات ان کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے جمع کرائے،سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی قانونی ٹیم کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عمران خان نے عمومی الزامات لگائے،ٹھوس شواہد نہیں دیئے،عمران خان کی دستاویزات غیر متعلقہ،غلط اور ناقابل قبول ہیں،وزیراعظم عمران خان کے الزامات مسترد کرچکے ہیں،دستاویز پر اعتراض اور جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں،عمران خان متعلقہ دستاویز کی نشاندہی کرے تو جواب اور اعتراض دائر کریں گے۔

17/11/2016 - 16:12:25 :وقت اشاعت