سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرتے تو پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:24 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:12:19 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:25:14 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:21:45 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:10:50 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:15:46 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:09:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرتے تو پاکستان مضبوط ہوتا،سعد رفیق

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اوروزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف کی پارلیمنٹ میں تینوں تقاریر میںمماثلت پائی جاتی ہے،سیاست عمران خان کے بس کی بات نہیں، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرتے تو پاکستان مضبوط ہوتا۔ جمعرات کو پاناما کیس کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آج کی عدالتی کارروائی کو خدا کی رحمت سمجھتا ہوں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور وزیر اعظم پاکستان کے موقف کر عدالت عظمی کے سامنے مخالفین ہی کی طرف سے بڑے موثر اندازمیںپیش کیا گیا جبکہ عدالت عظمی کی جانب سے عمران خان کو تنبیہہ کی گئی کہ آپ سیاست نہ کرٰیں وضاحت کریںٰ کہ مقدمہ کس کا لڑ رہے ہیںاور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف جو دستاویزات عدالت میں جمع کرائی ہیں ان کو از سر نو پڑ ھیں اور اس کے بعد اعتراضات کی بات کرٰیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ عدالت عظمی کھلی عدالت ہے اور ہم یہاں سے کامیاب ہوں گے، جلن ،حسد کے شکار مخالفین کو شکست کا سامنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ عدالت جو فیصلہ کرے گی اس کا ا حترام کیا جائے گا۔ ترک صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مہمان صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنا تھا اور پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں 34 نشتیں ہیں اور انھوں نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا بائیکاٹ کر کے عوام کو کیا پیغام دیا ہے ۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر عمران خان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرتے تو پاکستان کے وقاراور وحدت میں اور بھی اضافہ ہوتا، یہ ان کی قومی ذمہ داری تھی۔انھوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کسی پارٹی کی اجارہ داری نہیں ہوتی یہ قوم کے ووٹوں سے وجود میں آتی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی عمران خان اہم ترین مسئلہ کشمیر کے سلسلہ میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں بھی موجود نہیں تھے جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کو یکجہتی کا مظاہرہ کر نا تھا۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان نے کبھی بھی اپنے رویے کی وضاحت پیش نہیں کی،لہذا عمران خان کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
17/11/2016 - 15:21:45 :وقت اشاعت