پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے متعدد خطرات سے دوچار ہے،ان اثرات سے تحفظ کے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 16:08:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:25:14 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:21:45 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:10:50 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:15:46 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:09:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:05:34
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے متعدد خطرات سے دوچار ہے،ان اثرات سے تحفظ کے لئے 14 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے، گرین پاکستان پروگرام کے تحت ملک بھر میں شجرکاری میں اضافہ کیا جائے گا،

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد کا مراکش میں اجلاس سے خطاب

مراکش ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو اکیلے اپنانے کے لئے 14 بلین ڈالرز کی ضرورت ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کو کم کرنے کے لئے وزیراعظم کی ہدایت پر گرین پاکستان پروگرام شروع کیا گیا جس کے تحت ملک بھر میں شجرکاری میں اضافہ کیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات جاری سی او پی 22 کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں اپنے ایک بیان میں کہی جو مراکش میں جاری ہے۔ اجلاس میں اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے خطرے میں ہم دسویں نمبر پر ہیں، پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے متعلق بہت سے خطرات سے دوچار ہے جن میں گلیشیئر کا پگھلنا، تغیر پذیر مون سون، بار بار سیلابوں کا سامنا، سمندری مداخلت، بلند درجہ حرارت اور خشک سالی شامل ہیں۔

ان قدرتی آفات سے لاکھوں لوگ متاثر ہوتے ہیں اور بھاری نقصان ہوتا ہے، ان خطرات سے پاکستان کی بقاء کی اہم صلاحیتوں میں رکاوٹ پیش آتی ہے۔ خاص طور پر پانی کے تحفظ، خوراک اور توانائی کا تحفظ شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ان کے منفی نتائج سے تمام سماجی، اقتصادی شعبوں اور لوگوں میں پائیدار ترقی اور ترقی کو فروغ دینے والی صلاحیتوں کو خدشات لاحق ہیں۔

وفاقی وزیر نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ ان تمام منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے حکومت نے جامع پالیسیاں اور منصوبے تشکیل دیئے ہیں جن میں موافقت اور تخفیف دونوں اقدامات شامل ہیں، ہم نے وژن 2025ء کے نام سے ایک تناظری ترقیاتی منصوبہ بنایا ہے جو ایک ’’قومی موسمیاتی تبدیلی پالیسی‘‘ ہے جس کے ساتھ ایک نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن پالیسی ہے جو ایک اطلاقی فریم ورک کے ساتھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگلے ہفتے ہم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پارلیمنٹ میں ایک اہم بل متعارف کروا رہے ہیں۔ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کے ہمراہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کونسل کے ساتھ مل کر ایک پالیسی تیار کریں گے اور اس کی موافقت، تیاری اور مختلف شعبوں میں نفاذ کی نگرانی کریں گے۔ پاکستان نے ایک قومی پائیدار ترقی کی حکمت عملی تیار کی ہے اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی و فخر محسوس ہو رہا ہے کہ اس

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 15:15:46 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان