پاکستانی بیرونی قرضوں کا حجم 110 ارب ڈالر ہوجانے کا خدشہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:15:46 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:20 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:09:58 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:08:33 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:05:34 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:05:34 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:05:34 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 15:01:44 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:54:31 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:54:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستانی بیرونی قرضوں کا حجم 110 ارب ڈالر ہوجانے کا خدشہ

بیرونی قرضوں میں اضافے کے باعث ایک بار پھر پاکستان کو آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے، معاشی ماہرین

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء) آئندہ چار برس میں پاکستان پر واجب الادا قرضوں کا حجم 111 ارب ڈالر ہو جانے کا خدشہ ہے، معاشی ماہرین نے کہاہے کہ بیرونی قرضوں میں اضافے کے باعث ایک بار پھر پاکستان کو آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑ سکتا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئندہ چار برس میں پاکستان پر واجب الادا قرضوں کا حجم 111 ارب ڈالر ہو جانے کا خدشہ ہے جوکہ آئی ایم کے اندازوں سے بھی زیادہ ہے۔

ماہرین کے مطابق ان قرضوں کی ادائیگی کیلئے پاکستان کو سالانہ 22 ارب ڈالر درکار ہوںگے۔سابق مشیر برائے خزانہ ڈاکٹر اشفاق حسن کے مطابق قرضوں کا یہ حجم آئی ایم ایف کی پیشگوئی سے چوبیس ارب ڈالر زائد ہے۔ سال دوہزار تیرہ میں بھی قرضوں کی ادائیگی اور معشیت کو سہارا

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 15:05:34 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان