ترک صدر کا مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعلان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:22:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:24:56 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:22:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:22:57 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:15:00 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:14:57 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:02:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:52:55 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:51:11 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:46:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:45:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

ترک صدر کا مسئلہ کشمیر پر پاکستانی مؤقف کی بھرپور حمایت کا اعلان

پاکستان اور ترکی کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق،ترک صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے،دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور محبت کے ہیں،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے،ترک عوام کے حوصلے اور جرت سے بغاوت کو ناکام بنایا گیا،ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا،ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کیلئے نئی تاریخ رقم کی , وزیراعظم نوازشریف کی ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکہ نیوزکانفرنس , لائن آف کنٹرول کی کشیدگی کی صورتحال پر تشویش ہے،مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کر تے ہیں ،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں،ایل او سی کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا،خطے میں امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلق ناگزیر ہے،سیاسی،عسکری ،تجارتی ،ثقافتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا عزم کرتے ہیں،پاکستان اور ترکی کے درمیان 2017تک فری ٹریڈ معائدہ ہوجائے گا،شاندار استقبال کرنے پر پاکستان کا شکر گزار ہوں،ترک صدر

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 نومبر2016ء)پاکستان اور ترکی نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ،وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ ترک صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے،دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور محبت کے ہیں،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے،ترک عوام کے حوصلے اور جرت سے بغاوت کو ناکام بنایا گیا،ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا،ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کیلئے نئی تاریخ رقم کی جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی کشیدگی کی صورتحال پر تشویش ہے،مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کرینگے ،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں،ایل او سی کشیدگی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا،خطے میں امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلق ناگزیر ہے،سیاسی،عسکری ،تجارتی ،ثقافتی اور معاشی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا عزم رکھتے ہیں،پاکستان اور ترکی کے درمیان 2017تک فری ٹریڈ معائدہ ہوجائے گا،شاندار استقبال کرنے پر پاکستان کا شکر گزار ہوں۔

جمعرات کو وزیراعظم میاں نوازشریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ملاقا ت اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتے ہیں،ترکی پاکستان کاد وسرا گھر ہے،دونوں ملکوں کے تعلقا ت باہمی اعتماد اور محبت پر مبنی ہیں،ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے،ترک عوام کے حوصلے اور جرت نے بغاوت کو ناکام بنایا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے،ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کیلئے نئی تاریخ رقم کی۔

انہوں نے کہاکہ ترک صدر طیب اردوان کی قیادت میں ترکی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ترک صدر سے وسیع البنیاد امور پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں سرمایہ کاری اور تجارت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان اور ترکی دونوں اہم ملک ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ترکی کے مضبوط باہمی تعلقا ت خطے کیلئے نہایت اہم ہیں۔

مذاکرات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں گفتگو کی گئی۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کی رکنیت کیلئے ترکی کی حمایت قابل تعریف ہے۔2017 دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 70ویں سالگرہ کا سال ہے،پاکستان اور ترکی امن و سلامتی کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے،دونوں ممالک کے تعلقات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 14:14:57 :وقت اشاعت