نواز شریف سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی اور ترکی مقبوضہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:22:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:22:57 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:15:00 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:14:57 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:02:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:52:55 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:51:11 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:46:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:45:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:43 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

نواز شریف سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی اور ترکی مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کرتا ہے- کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال پرتشویش ہے۔

پاکستان اورافغانستان کے درمیان بہترتعلقات چاہتے ہیں -دہشت گردتنظیموں کاخاتمہ کریں گے امید ہے ہماری مخالف دہشت گردتنظیم کو پاکستان میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ پاکستان اورترکی کے تعلقات منفرد ہیں اور ترکی کے ساتھ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں جب کہ مشکلات کے ماحول میں پاکستان اورترکی کے تعلقات اوربھی مضبوط ہوں گے اور یقین ہے امن اورخوشحالی کے لئے ترکی اپناکردارجاری رکھے گا۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا وزیراعظم نوازشریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب ,

ا سلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 نومبر۔2016ء) ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ نواز شریف سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی اور ترکی مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کرتا ہے جب کہ کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال پرتشویش ہے۔وزیراعظم ہاو¿س میں نواز شریف سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے ملاقات میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھی بات ہوئی، مسئلہ کشمیر کو کسی طرح بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور ترکی مقبوضہ کشمیر پر پاکستانی موقف کی بھر پور حمایت کرتا ہے، دونوں ممالک مسلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کرسکتے ہیں اور ترکی بھی اس مسئلے کی مذاکرات کے ذریعے فوری حل کی حمایت کرتاہے جب کہ کنٹرول لائن پر کشیدہ صورتحال پرتشویش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہرمشکل میں ترکی کاساتھ دیا اورہم پاکستان کے خلوص کو نظرانداز نہیں کرسکتے جب کہ پاکستان کے ساتھ مختلف منصوبوں پرمعاہدوں پردستخط کئے ہیں۔رجب طیب اردگان نے کہا کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان بہترتعلقات چاہتے ہیں جب کہ دہشت گردتنظیموں کاخاتمہ کریں گے اور امید ہے ہماری مخالف دہشت گردتنظیم کو پاکستان میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔

اس موقع پروزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اورترکی کےتعلقات منفرد ہیں اور ترکی کے ساتھ تعلقات کا فروغ چاہتے ہیں جب کہ مشکلات کے ماحول میں پاکستان اورترکی کے تعلقات اوربھی مضبوط ہوں گے اور یقین ہے امن اورخوشحالی کے لئے ترکی اپناکردارجاری رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہوناچاہیے اور 2017 کے آخرتک ترکی کے ساتھ آزادتجارت کا معاہدہ چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستانی عوام ترکی میں ہونے والی فوجی بغاوت کی مذمت کرتے ہیں جب کہ ترک عوام نے اپنے مظبوط حوصلے اور جرات کے ساتھ فوجی بغاوت کو ناکام بناکر جمہوریت کے لیے نئی تاریخ رقم کی۔ انہوں نے کہا کہ این ایس جی میں پاکستان کی رکنیت کے لیے ترکی کی حمایت قابل تعریف ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی امن، سیکورٹی اور استحکام کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے ، ترک حکومت نے جمہوریت کی سربلندی کے لیے نئی تاریخ رقم کی۔

وزیر اعظم نوا زشریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات باہمی اعتماد اور محبت پر مبنی ہیں۔ پاکستان اور ترکی تعلقات مزید مستحکم بنانے پر متفق ہیں ، دونوں ملک تجارتی تعلقات کو بھی آگے بڑھائیں گے۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ ترک حکومت نے جمہوریت کی سربلندی کے لیے نئی تاریخ رقم کی ، ترکی کے عوام نے جمہوریت پر حملہ ناکام بنایا۔

مشترکہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن پر گہری نظر اور صورتحال پر تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑیں -وزیراعظم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

17/11/2016 - 13:52:55 :وقت اشاعت