پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی -15سالوں کے دوران 14ہزار9سو53افراد دہشت گردی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:15:00 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:14:57 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:02:47 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:52:55 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:51:11 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:46:59 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 13:45:22 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:43 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:35 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:30 وقت اشاعت: 17/11/2016 - 14:00:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی -15سالوں کے دوران 14ہزار9سو53افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے- آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی میں45فیصد کمی آئی-سال2015میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں 29ہزار 376افراد مارے گئے-انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی عالمی دہشت گردی انڈیکس پر رپورٹ

نیویارک(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔17 نومبر۔2016ء)انسٹیٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے عالمی دہشت گردی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے مگر ابھی تک اسے دنیا کے خطرناک ممالک میں شمار کیا جاتا ہے -رپورٹ کے مطابق پاکستان دہشت گردی کا شکار ممالک کے فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں 15سالوں کے دوران 14ہزار9سو53افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے تاہم پاک فوج کی جانب سے 2014میں شروع کیئے جانے والے آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردی میں45فیصد کمی آئی ہے-اس آپریشن سے شمالی وزیرستان سے 3ہزارسے زیادہ دہشت گردوں کا صفایا کیاگیااور کالعدم تنظیموں کے ہزاروں افراد بھی سیکورٹی فورسسزکی گولیوں کا نشانہ بنے سال2015کے دوران مجموعی طور پر 240شہری دہشت گردی کا شکار ہوئے جبکہ 2014میں یہ تعداد 544تھی-سال2015میں دنیا بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں 29ہزار 376افراد مارے گئے-دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں عراق اور افغانستان میں ہوئیں -رپورٹ میں 2000 سے 2015 تک دنیا کے مختلف ممالک میں دہشت گردی کے عالمی رجحانات اور پیٹرن کی جامع خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔

گلوبل ٹیررازم انڈیکس دہشت گردی کے اثرات کے تجزیے کے لیے 163 ممالک کا جامع مطالعہ ہے، جن میں دنیا کی کل آبادی کی 99.7 فیصد آبادی رہتی ہے۔عالمی دہشت گردی سے متعلق مختلف امور کا احاطہ کرتی اس رپورٹ میں شامل ڈیٹا ’نیشنل کنسورشیم فار دی اسٹڈی آف ٹیررازم اینڈ ریسپونسز ٹو ٹیررازم کے گلوبل ٹیررازم ڈیٹابیس سے حاصل کیا گیا ہے۔رپورٹ میں عالمی دہشت گردی کی پیچیدہ اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

ایک جانب جہاں چند ممالک میں دہشت گردی پر کسی حد تک قابو پایا گیا ہے تو دوسری طرف کئی ممالک میں اس حوالے سے صورتحال تشویشناک صورت اختیار کرگئی ہے۔2016 کے ’جی ٹی آئی‘ میں دنیا کے 76 ممالک کے اسکور میں بہتری آئی، جبکہ 53 ممالک کی صورتحال مزید خراب ہوئی، تاہم مجموعی طور پر جی ٹی آئی اسکور گزشتہ سال کے مقابلے میں 6 فیصد خراب ہوا، کیونکہ کئی ممالک میں دہشت گردی میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہوا۔

وہ ممالک جو سب سے زیادہ دہشت گردی کی زد میں رہے ان میں عراق، افغانستان، نائیجیریا، پاکستان اور شام شامل ہیں۔ 2015 کے دوران دہشت گردی سے کل ہلاکتوں کے اعتبار سے صرف ان پانچ ممالک میں 72 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔سال 2015 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والی ہلاکتوں میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی۔ یہ 2010 کے بعد پہلا موقع تھا جب دہشت گردی سے ہونے والی ہلاکتوں میں کمی واقع ہوئی۔

دہشت گردی سے ہلاکتوں میں سب سے زیادہ کمی عراق اور نائیجیریا میں ہوئی، جو 2014 کے مقابلے میں تقریباً ساڑھے 5 ہزار یعنی 32 فیصد کم تھیں۔آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے رکن ممالک میں 2015 میں دہشت گردی کے واقعات سے ہونے والی ہلاکتوں میں حیرت انگیز طور پر اضافہ ہوا اور یہ اضافہ 2014 کے مقابلے میں 650 فیصد زیادہ تھا۔

اس سال 34 او ای سی ڈی ممالک میں سے 21 میں کم از کم ایک دہشت گردی کا واقعہ ضرور پیش آیا، جبکہ زیادہ تر ہلاکتیں ترکی اور فرانس میں ہوئیں۔سال 2015 میں دہشت گرد تنظیم داعش سے منسلک دہشت گرد گروپس نے 28 ممالک میں حملے کیے، جبکہ 2014 میں ان ممالک کی تعداد 13 تھی۔2015 میں 274 نامعلوم دہشت گرد گروپس نے مختلف ممالک میں حملے کیے، جن میں سے 103 گروپوں کے حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

سال 2015 میں دنیا کے 23 ممالک میں دہشت گردی کے واقعات میں ریکارڈ ہلاکتیں ہوئیں، جن کی 2014 میں تعداد 17 تھی۔گزشتہ 16 سالوں کے دوران 2014 دہشت گردی کے حوالے سے بدترین سال تھا، جس دوران 93 ممالک میں دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 32 ہزار 765 ہلاکتیں ہوئیں۔سال 2006 کے بعد سے امریکا میں دہشت گردی سے ہونے والی 98 فیصد ہلاکتیں ایسی تھیں، جن میں حملہ آور ایک تھا، اس طرح کے حملوں میں 156 افراد ہلاک ہوئے۔

داعش کے غیر ملکی جنگجو جو شام میں لڑائی کرنے گئے، ان کی تعلیمی سطح بلند لیکن آمدنی کی سطح کم تھی، جبکہ کئی جنگجوو¿ں نے داعش میں اس لیے شمولیت اختیار کی کیونکہ انہیں اپنے مادر ممالک میں اخراج کا احساس ہورہا تھا۔سال 2014 کے دوران او ای سی ڈی ممالک میں داعش کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 18 تھی، تاہم 2015 میں یہ تعداد کئی گنا اضافے کے بعد 67 دہشت گرد حملوں میں 313 ہوگئی۔

سال 2015 کے دوران داعش سے جوڑے گئے دہشت گرد حملوں میں سے نصف ایسے تھے، جن میں حملہ آور کا داعش سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔سال 2015 میں دہشت گردی سے ہلاک ہونے والوں میں سے 74 فیصد کے ذمہ دار 4 گروپس تھے جن میں داعش، بوکو حرام، طالبان اور القاعدہ شامل تھے۔2015 میں داعش نائیجیریا میں سرگرم دہشت گرد تنظیم بوکو حرام سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوئی۔

داعش نے مختلف شہروں میں 252 حملے کیے، جس کے نتیجے میں 6 ہزار 141 افراد ہلاک ہوئے۔بوکو حرام کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی آئی اور سال 2015 کے دوران تنظیم کے حملے میں 5 ہزار 478 افراد ہلاک ہوئے۔القاعدہ کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 17 فیصد کم ہوئی اور اس کے حملوں میں ایک ہزار 620 افراد ہلاک ہوئے۔سال 2015 کے دوران افغان طالبان کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں 29 فیصد اضافہ ہوا اور طالبان کے حملوں میں 4 ہزار 502 افراد ہلاک ہوئے۔

سال2015 میں عالمی معیشت کو دہشت گردی کے وجہ سے 89 ارب 60 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا، جو 2014 سال کے مقابلے میں 15 فیصد کم ہے۔دہشت گردی کی وجہ سے عراق کی معیشت کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا، جو عراق کے جی ڈی پی کا 17 فیصد ہے۔ان ممالک میں جہاں دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، سیاحت کی صنعت دوگنی ہوگئی۔دہشت گردی کے شکار ممالک میں قیام امن کے لیے مختص معاشی وسائل کا ملکی معیشت پر دو فیصد اثر پڑا۔

17/11/2016 - 13:46:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان