جائیداد کی خریدپر ایف بی آر کے نئے ٹیکسوں اور ان کی شرح بڑھانے سے تعمیراتی صنعت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:21:58 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:21:56 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:59 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:56 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:55 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:51 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:46 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:45 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:18:41 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:16:03 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:16:00
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

جائیداد کی خریدپر ایف بی آر کے نئے ٹیکسوں اور ان کی شرح بڑھانے سے تعمیراتی صنعت کا مستقبل بھی خطرے میںپڑ گیا ہے

ترجمان پاکستان رئیل اسٹیٹ انڈسٹری فورم کے کے صدر شعبان الہی کی پریس کانفرنس

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء) پاکستان رئیل اسٹیٹ انڈسٹری فورم (پریف) نے کہا ہے کہ جائیداد کی خریدپر ایف بی آر کے نئے ٹیکسوں اور ان کی شرح بڑھانے سے تعمیراتی صنعت کا مستقبل بھی خطرے میںپڑ گیا ہے، بہت سی ہاؤسنگ اسکیموں میں بکنگ منسوخ ہو گئی ہیں، اس صنعت سے وابستہ 50دیگر شعبے بشمول سیمنٹ، اسٹیل، پینٹس، پائپ بھی بحرانی کیفیت سے دوچار ہیں۔

سرمایہ متحدہ عرب امارات منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ پریف نے مطالبہ کیا کہ رضاکارانہ فکسڈ ٹیکس کو دو فیصد کیا جائے۔ ایف بی آرویلیوایشن میں ہر سال صرف 10فیصد تک اضافہ کرے، ودہولڈنگ ٹیکس، کیپٹل گین ٹیکس سمیت دیگر تمام ٹیکسز کی شرح میں کمی کی جائے، ویلیوایشن میں درپیش خامیوں اور مسائل کو فوری دورکیا جائے۔ اگر مطالبات فوری مان لیے گئے تو رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں 500سے 600فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے، یہ مطالبات بدھ کے روز پاکستان رئیل اسٹیٹ انڈسٹری فورم (پریف) کے صدر شعبان الہیٰ، جنرل سیکریٹری غضنفر محبوب اور دیگر عہدیداران نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے کرتے ہوئے پیش کئیے، انہوں نے کہا کہ اس وقت رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں معاشی سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئی ہیں، نئے ٹیکس قوانین سے حکومتی آمدنی میں وقتی طور پر فائدہ ہو سکتا ہے وہ بھی جون 2016سے قبل ہونے والے خریدوفروخت کی وجہ سے ہو گا لیکن اگلے مہینوں میں اس میں بھی کمی آجائے گی۔

رہائشی اسکیموں میں بکنگ منسوخ ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے اس شعبے میں بھی بحرانی کیفیت ہے اور کچی آبادیاںبڑھ رہی ہیں۔ اس کے علاوہ نئی رہائشی اسکیمیں بھی نہیں آئیں گی جبکہ اس سے وابستہ شعبے بشمول سیمنٹ، اسٹیل ، پینٹس اور پائپ وغیرہ بھی مشکلات سے دوچار ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی بہت کم ہو چکی ہے۔

صورت حال کی وجہ سے سرمایہ متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک میںجانا شروع ہو گیاہے۔ شعبان الہیٰ اور غضنفر محبوب نے کہا کہ گزشتہ کئی عشروں سے ڈی سی ریٹ پر جائیداد کی خریدوفروخت چل رہی تھی اور اس دوران اس ریٹ کو مناسب شرح سے بڑھایا نہیں گیا۔ اس کی وجہ سے ان ڈاکومینٹڈ(undocumented ) پیسہ جمع ہو گیا جس کا مطلب ہے کہ اگر کسی نے اپنا ڈیکلئیرڈ پیسہ بھی اس شعبے میں لگایا تو اب وہ ان ڈاکومینٹڈ ہو گیا۔



مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/11/2016 - 23:18:51 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان