پاکستان اور ترکی کے صدور کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:05:25 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:02:15 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:02:14 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:02:14 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:02:14 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 23:02:11 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:34:28 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 22:53:44 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 22:53:44 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 22:53:44 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 22:53:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پاکستان اور ترکی کے صدور کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات

تجارتی اور دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے تصفیہ، افغانستان میں دیرپا امن کیلئے مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے باہمی تعاون پر اتفاق , صدر مملکت نے تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ترکی کو دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدتی اور جامع دفاعی تعاون کیلئے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینی چاہئے جس سے معزز مہمان نے اتفاق کیا، پاکستانی آبدوز کو اپ گریڈ کرنے پر ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اطمینان کا اظہار , آنے والے دنوں میں دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہو گا ، اس سلسلہ میں تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے، ترک صدر رجب طیب اردوان

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء) صدر مملکت ممنون حسین اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات میں مزید گہرائی پیدا کرنے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے تصفیہ، افغانستان میں دیرپا امن کیلئے مشترکہ کوششوں اور دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے جبکہ پاکستان نے نیوکلیئر سپلائر گروپ کے معاملہ میں بھرپور حمایت پر ترکی کا شکریہ ادا کیا۔

دونوں عالمی رہنمائوں کے درمیان یہ اتفاق رائے بدھ کی شب ایوان صدر میں ملاقات میں پایا گیا۔ دونوں رہنمائوں نے پہلے تنہائی میں ملاقات کی، اس کے بعد دونوں ممالک کے وفود بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس موقع پر ترک وزیر خارجہ میولٹ کاوس اولو، صدارتی ترجمان ابراہیم کا لان، ترک سفیر صدیق باربر گرگن، پاکستان سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔

صدر مملکت نے اس موقع پر تجویز پیش کی کہ پاکستان اور ترکی کو دونوں ملکوں کے درمیان طویل المدتی اور جامع دفاعی تعاون کیلئے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینی چاہئے جس سے معزز مہمان نے اتفاق کیا۔ صدر ممنون حسین نے پاکستانی آبدوز کو اپ گریڈ کرنے پر ترکی کے تعاون اور پاکستان سے سپر مشاق تربیتی طیاروں کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدررجب طیب اردوان نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان آنے والے دنوں میں دفاعی تعاون میں مزید اضافہ ہو گا اور اس سلسلہ میں تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

دونوں رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئے۔ صدر مملکت ممنون نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ کے تحت ہونی چاہئے۔ صدر مملکت نے مسئلہ کشمیر کے ضمن میں ترکی کی بھرپور حمایت پر ترک صدر کا شکریہ ادا کیا اور معزز مہمان کو یقین دلایا کہ پاکستان قبرص کے معاملہ پر ترکی کی بھرپور حمایت غیر مشروط طور پر جاری رکھے گا۔

انہوں نے توقع ظاہر کی کہ یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا جس پر ترک صدر نے صدر مملکت اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاک۔ترک تجارت میں گذشتہ چند برسوں کے دوران کچھ کمی آئی ہے جس میں فوری اضافہ کی ضرورت ہے۔ ترک صدر نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے تجارت میں اضافہ کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ جلد ہی اس صورتحال میں بہتری پیدا ہو گی۔

صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترک سرمایہ کار پاکستان میں توانائی اور انفراسٹرکچر کی سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے پاکستان میں بڑھتی ہوئی ترک سرمایہ کاری پر اطمینان کا بھی اظہار کیا۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/11/2016 - 23:02:11 :وقت اشاعت