سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں‘ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:24:28 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:24:27 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:18:26 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:18:07 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:08:24 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:08:15 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:08:13 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:02:17 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:02:13 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:02:10 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 21:02:07
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں‘ لیاقت بلوچ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء) جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سی پیک کو کالا باغ ڈیم کی طرح متنازع نہ بنایا جا ئے اتفاق رائے سے فیصلے کئے جائیں امریکہ سی پیک کے خلاف ہے تجارتی ترجیحات کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کئے جائیں ہمارا مطالبہ کسی کو ہٹانا نہیں کرپشن کا مکمل طور پر خاتمہ ہے اور احتساب کے لئے سپریم کورٹ کی سطح پر عدالتی کمیشن بنانا ہے تاکہ لوٹی ہو ئی دولت واپس لائی جا ئے قومی ترجیحات پر ایجنڈا واضح ہو نا چاہیئے پاکستان کی زراعت،،تجارت،صنعت اور مقامی انرجی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے پن بجلی اہم زریعہ ہے جماعت اسلامی کا واضح اور دو ٹوک انداز میں موقف ہے کہ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنائے جائیںورنہ احساس محرومی بڑھتا جائے گا سیاسی جماعتوں کے قائدین کا سرائیکی صوبے کا مطالبہ صرف نعروں تک محدود ہے وکلاء الگ صوبے کے قیام کے لئے تحریک چلائیں جماعت اسلامی ساتھ کھڑی ہو گی اس خطے کے 9ہزار وکلاء سے اعلی عدلیہ میں جج نہ لینا میرٹ کی پامالی ہے جس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ملتان میں وکلاء کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ جس کی صدارت صدر بار عظیم الحق پیرزادہ نے کی اس موقع پر جنرل سیکریٹری محمد عمران خان خاکوانی، امیرجماعت اسلامی سٹی ڈسٹرکٹ ملتان امیر آصف محموداخوانی، ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، کلیم اکبر صدیقی، کنور محمد صدیق بھی موجود تھے۔ انہوںنے مزید کہا کہ وکلاء نے اگر الگ صوبے کے قیام کے لئے موئثر انداز میں تحریک چلائی تو پارلیمنٹ پر دبائو بڑھے گا اور سیاسی جماعتوں کی مجبوری بن جا ئے گی لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام تر مصلحتوں سے بالا تر ہو کر الگ صوبے کے قیام کی تحریک منظم کریں کوئی چلے نہ چلے جماعت اسلامی وکلاء کے شانہ بشانہ ہو گی انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا احترام کرتا ہوں لیکن جنوبی پنجاب سے کسی کو نہ لینا اس سے بڑی میرٹ کی پامالی نہیں ہے سرائیکی وسیب کو اس کا حق ملنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/11/2016 - 21:08:15 :وقت اشاعت