انڈونیشیا کی پولیس نے جکارتہ کے گورنر کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:52 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:50 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:49 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:48 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:46 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:44 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:58:42 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:55:01 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:50:23 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:27:22 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 13:27:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

انڈونیشیا کی پولیس نے جکارتہ کے گورنر کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیدیا

آہوک کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام ہے

جکارتہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء)انڈونیشیا کی پولیس نے جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیدیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نڈونیشیا کی پولیس نے جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرناما کو توہین مذہب کی تحقیقات میں مشتبہ قرار دیاہے ۔آہوک کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام ہے۔

پرناما عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ 50 سالوں میں جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر ہیں۔ آئندہ برس فروری میں وہ دوسری بار گورنر کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔تاہم کچھ اسلامی گروہوں

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/11/2016 - 13:58:44 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان