بنگلہ دیش پریمئیر لیگ،مشرفی مرتضی پاکستانی پیسر سہیل تنویر کے لیے ٹیم اونر سے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:32:57 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:32:55 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:32:54 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:26:20 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:26:19 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:26:19 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:26:16 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:21:29 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:21:29 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:21:29 وقت اشاعت: 16/11/2016 - 12:03:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بنگلہ دیش پریمئیر لیگ،مشرفی مرتضی پاکستانی پیسر سہیل تنویر کے لیے ٹیم اونر سے لڑ پڑے

ڈھاکا(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 نومبر2016ء) بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کومیلا وکٹورینز کے کپتان مشرفی بن مرتضیٰ نے سہیل تنویر کیلیے ٹیم اونر سے ٹکر لے لی، پاکستانی کرکٹر کو ڈراپ کرنے کے اصرار پر وہ ہوٹل چھوڑ کر چلے گئے، معذرت کے بعد ہی واپس آئے۔تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں ڈھاکا ڈائنا مائٹس کی ٹیم مسلسل 3میچز ہارنے کے بعد انتشار کا شکار ہوگئی، انداز قیادت پر تنقید نے مشرفی بن مرتضیٰ کی برداشت بھی ختم کردی ہے۔

فرنچائز کے مالک مصطفیٰ کمال نی2 میچز سے قبل سہیل تنویر کو ڈراپ کرنے کا مطالبہ کیا جس کو کپتان نے رد کردیا، بار بار مداخلت پر مشرفی ناراض ہوکر ٹیم ہوٹل ہی چھوڑ کر گھر چلے گئے، ان کا کہنا تھا کہ اونر کی طرف سے غیر ضروری دباؤ ڈالا جارہا ہے، بعدازاں مصطفی کمال کی جانب سے معذرت کے بعد وہ ڈھاکا ڈائنامائٹس کیخلاف میچ کھیلنے کو تیار ہوئے۔

ذرائع کے مطابق مشرفی مرتضیٰ بی پی ایل کے گذشتہ تینوں ایڈیشنز میں اپنی زیر قیادت ٹیموں کو فائنل تک پہنچاتے رہے ہیں، مسلسل 3شکستوں پر فرنچائز مالک نے نہ صرف سلیکشن بلکہ ان کی کپتانی پر بھی سوالات اٹھائے، جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غیر ضروری دباؤ ڈالنے کی وجہ سے کھلاڑی اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں، ان حالات میں وہ ٹیم کی کمان سنبھالے رکھنا مناسب نہیں سمجھتے۔بعد ازاں اپنے گھر پر میڈیا کے روبرو مشرفی مرتضیٰ نے کھل کر بات کرنے سے گریز کیا، ان کا کہنا تھا کہ ٹیم ہارے تو اس طرح کی تکرار ہوجاتی ہے، میدان میں رسل یا ڈیوائن براوو جیسے آل راؤنڈر کی کمی محسوس ہوتی ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ اپنی توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھیں۔۔

16/11/2016 - 12:26:19 :وقت اشاعت