پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بنچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:14:17 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:14:16 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:39 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:39 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:12:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:10:33 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:10:33 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 22:10:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بنچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے،ہمیں کمیشن کے بغیر کوئی اور حل اس لئے منظور نہیں کہ کمیشن کا مطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا اور ہے،اب اگر کچھ لوگ دائیں بائیں کا سوچ رہے ہیں تو ان کو اپنے سابقہ موقف کی طرف آنا چاہئے،احتساب ان کا بھی ہو جو حکومت میں ہیں اور ان کا بھی جو اپوزیشن کی صفوں میں ہیں، ہمیں صاف اور شفاف پاکستان چاہئے،اگر عدالتی نظام پر اعتماد بحال نہ ہوا تو مایوسی سے معاشرے میں تشدد اور عدم برداشت کا کلچر فروغ پائے گا،پیپلزپارٹی کا پانامہ پرتماشائی بننا مناسب نہیں

امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹرسراج الحق کا پر یس کا نفر نس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بنچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے،ہمیں کمیشن کے بغیر کوئی اور حل اس لئے منظور نہیں کہ کمیشن کا مطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا اور ہے،اب اگر کچھ لوگ دائیں بائیں کا سوچ رہے ہیں تو ان کو اپنے سابقہ موقف کی طرف آنا چاہئے،احتساب ان کا بھی ہو جو حکومت میں ہیں اور ان کا بھی جو اپوزیشن کی صفوں میں ہیں، ہمیں صاف اور شفاف پاکستان چاہئے،اگر عدالتی نظام پر اعتماد بحال نہ ہوا تو مایوسی سے معاشرے میں تشدد اور عدم برداشت کا کلچر فروغ پائے گا،پیپلزپارٹی کا پانامہ پرتماشائی بننا مناسب نہیں،وہ بھی فعال کردار ادا کریں ورنہ قوم سمجھے گی کہ شاید پیپلزپارٹی احتساب نہیں چاہتی، ترک صدر کی پاکستان آمد مفید اور مبارک ہے ان کو خوش آمدید کہتا ہوںتحریک انصاف کو فون کر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا ہے ۔

وہ منگل کو نائب امراء میاں محمد اسلم، اسد اللہ بھٹو، صوبہ پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد اور آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر محمد کاشف چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے احترام میں وہاں پر میڈیا سے گفتگو نہیں کی، سرکاری وکلاء نے سپریم کورٹ میں طوطا مینا کی کہانیاں سنائی ہیں۔

یہ ایک انتہائی سنجیدہ کیس ہے۔ یہ کسی فرد یا تنظیم کا نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کے مفادات اور مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ کیس نتیجہ خیز ہو اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں کرپشن سے پاک پاکستان عوام کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے 3 بار اپنے آپ اور خاندان کو احتساب کے لئے پیش کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنے آپ کو صاف ثابت کرنے کے لئے اور احتساب کے لئے خود نظام اور کمیشن بناتے، اپوزیشن کے ٹی او آرز کو تسلیم کرتے اور قومی اسمبلی میں قانون سازی کے لئے تجاویز دیتے لیکن انہوں نے اپنے اور قوم کے 7 مہینے ضائع کر دیئے حکومت احتساب سے بچنے کے لئے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بینچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کمیشن کے بغیر کوئی اور حل اس لئے منظور نہیں کہ کمیشن کا مطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا اور ہے۔ ایسا کمیشن جو ٹرائل کرے، تحقیق کرے اور سپریم کورٹ اس کی نگرانی کرے جبکہ نیب سمیت تمام ادارے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کمیشن کے تابع ہوں۔

انہوں نے کہا کہ اب عدالت میں جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں وہ غلط ہیں یا درست اس بات کا حساب کتاب کون کرے گا۔ عدالت میں کوئی اخبار کا تراشہ بھی پیش کر سکتا ہے۔ انتہائی بااعتماد افراد پر مشتمل ایک ٹیم کو باہر جا کر عدالت کو مطلوب دستاویزات اکٹھی کرنا چاہئیں۔ کوئی فرد انفرادی طور پر یہ نہیں کر سکتا بلکہ نیب کر سکتا ہے جس کے دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدے ہیں۔

اگر مجھے کوئی پانامہ سے ثبوت لانے کا کہے تو یہ مجھ پر فالتو بوجھ اور فرار کا راستہ ہو گا۔ نیب کمیشن کے سامنے شواہد پیش کرنے کا پابند ہے۔ اصغر خان کیس میں بھی سپریم کورٹ نے خود فیصلہ دیا تھا کہ متعلقہ ادارے تحقیقات کریں۔ آج بھی پانامہ لیکس کے حوالے سے کمیشن تشکیل دے کر متعلقہ اداروں کے ذریعے تحقیقات کروائی جانی چاہئیں۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم کرپشن اور کرپٹ نظام کے خلاف ہیں جس کی وجہ سے ہر بچے کے ہاتھوں میں قرض کی ہتھکڑیاں ہیں۔

ہم نے کرپشن کے خلاف تحریک شروع کی ہے۔ اب یہ تحریک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اب نہیں تو کبھی نہیں کا مرحلہ آ گیا ہے پوری قوم کو اس تحریک میں شامل ہونا چاہئے۔ احتساب ان کا بھی ہو جو حکومت میں ہیں اور ان کا بھی جو اپوزیشن کی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 22:12:38 :وقت اشاعت