پاکستان2018میں پاور ایکسپوٹر بن جائے گا ، آزاد علی تبسم
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:18:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:46 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:45 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:43 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:41 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:39 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:37 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:35 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:07:32 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:02:31 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 21:02:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

پاکستان2018میں پاور ایکسپوٹر بن جائے گا ، آزاد علی تبسم

پنجاب میں بجلی کے تین بڑے منصوبوں میں100ارب روپے کی بچت کی گئی، سالانہ 18ارب روپے کا فائدہ ہو گا،لیگی ایم پی اے ف

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی آزاد علی تبسم نے کہا ہے کہ پاکستان2018میں پاور ایکسپوٹر بن جائے گا ۔پنجاب میں بجلی کے تین بڑے منصوبوں میں100ارب روپے کی بچت کی گئی جبکہ سالانہ 18ارب روپے کا فائدہ ہو گا،حویلی بہاد شاہ ،بلوکی ، بھکی پاو ر پلانٹس میں شفافیت کی وجہ سے 2018کے آغاز میں اضافی بجلی پیدا ہوگی، پنجاب میں چار میگا پراجیکٹ کی وجہ سے 2018میں پاکستان بجلی برآمد کرسے گا،قیام پاکستان کے بعد مذکورہ تینوں پراجیکٹ میں پہلی بار جدید ترین مشینری استعمال کی گئی ہے جس کے بعد پنجاب پاور جنریشن فیکٹری کا روپ دھارلے گا۔

بلوکی پاور پلانٹ سے بجلی کی 1223 میگا واٹ پیداواری صلاحیت، جدید ترین نائن ایچ گیس ٹربائن ٹیکنالوجی کا حامل کمبائنڈ سائیکل بلوکی پاور پلانٹ جنوری 2018ء میں تکمیل کے بعد پوری استعداد کے ساتھ پیداوار شروع کر دے گا‘ منصوبہ61.63فیصد صلاحیت کے ساتھ کم سے کم فیول میں زیادہ سے زیادہ بجلی بنائے گا،حکومت کی شفاف پالیسی کی بدولت منصوبہ سے 38.5ارب روپے کی بچت کی گئی جبکہ سالانہ 5.8ارب روپے فیول بچے گا،جدید ترین مشینری کی بدولت پیداواری لاگت فی یونٹ6.3روپے ہو گی جس کا فائدہ براہ راست صارفین کو پہنچے گا، بجلی کی فی میگا واٹ پیداواری لاگت 1.2ملین ڈالر سے کہیں کم نہیں لیکن بلوکی پاور پلانٹ کی فی میگاواٹ پیداواری لاگت0.9ملین ڈالر سے نہیں بڑھے گی، بلوکی پاور پلانٹ پر دئیے گئے اہداف کے مطابق کام تیزی سے جاری ہے،جس کی تکمیل جنوری 2018ء میں ہو گی،اوپن سائیکل سے پہلے مرحلے میں بجلی کی پیداوار ستمبر 2017ء میں شروع ہو جائیگی تاہم کمبائنڈ سائیکل سے بجلی کی مکمل پیداوار جنوری 2018ء میں شروع ہو گی،جدید ترین نائن ایج گیس ٹربائین ٹیکنالوجی کا حامل یہ پاور پلانٹ کمبائنڈ سائیکل ہے جو گیس اور ڈیزل دونوں سے چلایا جاسکتا ہے تاہم پرائم فیول گیس ہے، سوئچ یارڈ ایریا‘ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ ،سنٹرل کنٹرول روم‘ فیول ٹینکس‘ کولنگ ٹاور‘ گیس ٹربائنز‘ سٹیم ٹربائن‘ بوائلر اور مکینیکل سروسز بلڈنگ پر کام تیزی سے جاری ہے ۔

500 کے وی کے سوئچ یارڈ کے ذریعے بجلی کی پیداوار ٹرانسفر کی جائیگی‘ سرفراز نگر کے قریب 500 کے وی کا گرڈ سٹیشن بنایا جارہا ہے‘ ٹرانسمیشن لائن کے ذریعے بجلی گرڈ سٹیشن سے منسلک ہو کر قومی گرڈ میں شامل ہو جائیگی، بلوکی،حویلی بہادر شاہ،بھکی پاور پلانٹس کی تکمیل سے حکومت کے 2018ء میں بجلی کا بحران ختم کرنے کے دعوے کو عملی جامہ پہنانے میں مدد ملے گی، ؂
15/11/2016 - 21:07:39 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان