فاٹا اصلاحات سے تعمیر وترقی کا نیا سورج طلوع ہوگا،سفارشات کے تحت قبائلی علاقوں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 20:03:15 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:53:25 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:43:05 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:47:25 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:32:24 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:32:19 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:24:24 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:24:24 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:24:22 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:24:22 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:24:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

فاٹا اصلاحات سے تعمیر وترقی کا نیا سورج طلوع ہوگا،سفارشات کے تحت قبائلی علاقوں میں اربن سنٹرز قائم کئے جائینگے،ان میں جدید رہائشی سہولیات ،کالج سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے،آبپاشی، تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی کئی منصوبے شروع کیے جائیں گے،20ہزار افراد کو لیویز میں بھرتی کیا جائیگا ، رواج ایکٹ جرگہ کا نعم البدل ہو گا ، اس میں انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا،معاملے کو پارلیمان بھیج کر آراء طلب کی جائیں گی

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا فاٹا اصلاحات کے حوالے سے تقریب سے خطاب , وقت آ چکا کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح فاٹا کو بھی باقاعدہ حیثیت دی جائے، عبدالقادر بلوچ , ہمیں رواج ایکٹ پر محتاط انداز میں کام کرنا ہو گا ، سینیٹر فرحت اللہ بابر

ْاسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہاکہ فاٹا میں اصلاحات سے تعمیر اور ترقی کا نیا سورج طلوع ہوگا،تعمیر و ترقی کے حوالے سے فاٹا کافی پسماندہ رہ گیا ہے،سفارشات کے تحت فاٹا میں اربن سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جا ئے گا، اربن سینٹروں میں جدید رہائشی سہولیات ،کالج سکول اور ہسپتال تعمیر کیے جائیں گے۔

آبپاشی, تعلیم اور صحت کے حوالے سے بھی کئی منصوبے شروع کیے جائیں گے،20ہزار افراد کو لیویز میں بھرتی کیا جایے گا تاکہ ریاست کی رٹ کو ہر جگہ یقینی بنایا جا سکے،۔ رواج ایکٹ جرگہ کا نعم البدل ہو گا تاہم اس میں انسانی حقوق کا مکمل خیال رکھا جائے گا،معاملے کو پارلیمان بھیج کر اس حوالے سے آراء طلب کی جائے گی ۔ جبکہ وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر )عبدالقادر بلوچ نے کہاکہ قبائلی علاقہ جات حکومت کے لئے نہایت اہمیت کے حامل ہیں، وقت آ چکا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح فاٹا کو بھی باقائدہ حیثیت دی جائے ۔

تقریب سے خطاب میں انہوںنے کہاکہ قبائلی علاقہ جات حکومت پاکستانی و فاٹا عوام کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔اس سے قبل فاٹا کے نظام و معاملات کو صرف ایک گورنر کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔فاٹا پارلیمینٹرینز ملک بھر کے لیے تو قانون سازی کر سکتے تھے تاہم ان قوانین کا اطلاق قبائلی علاقہ جات پر نہیں ہوتا تھا۔فرنٹئر کرائمز ریگولیشن یا ایف سی آر کو ایک کالا قانون سمجھا جاتا تھا۔

ایف سی آر میں ایک فرد کی غلطی کی سزا پورے قبائل کو دی جاتی تھی۔جبکہ فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی قبائلی عوام کو نہیں تھا۔فاٹا کو ملک کے دیگر حصوں کے مساوی لانے کے لیے خصوصی کوششو ں کی ضرورت تھی۔ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فاٹا اصلاحات کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔2017کے اختتام تک قبائلی علاقہ جات میں مقامی حکومتیں قائم کر دی جائیں گی۔

اب وقت آ چکا ہے کہ ملک کے دیگر حصوں کی طرح فاٹا کو بھی باقاعدہ حیثیت دی جائے۔فاٹا کے لیے سب سے بہترین آپشن اس کا صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام ہے۔ہم سفارشات تیار کر رہے ہیں جو کہ آئندہ آنے والی حکومت کے دور اقتدار میں عملی طور پر نافذ ہوں گی۔فاٹا میں آئندہ دس برس کے لیے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 19:32:19 :وقت اشاعت