سرکاری وکلاء نے سپریم کورٹ میں طوطامینا کی کہانیاں سنائیں۔سراج الحق
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:01:30 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:01:27 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:01:26 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:01:23 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:35:43 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:26:31 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:49:00 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:49:00 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:49:00 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:49:00 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:49:00
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سرکاری وکلاء نے سپریم کورٹ میں طوطامینا کی کہانیاں سنائیں۔سراج الحق

پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بینچوں کی بوکھلاہٹ کاثبوت ہے،کمیشن کے بغیرکوئی اورحل منظور نہیں، کمیشن کامطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا۔امیرجماعت اسلامی کی گفتگو

لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15نومبر2016ء):امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ سرکاری وکلاء نے سپریم کورٹ میں طوطا مینا کی کہانیاں سنائی ہیں، پانامہ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بینچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے،ہمیں کمیشن کے بغیر کوئی اور حل اس لئے منظور نہیں کہ کمیشن کا مطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا اور ہے،اب اگر کچھ لوگ دائیں بائیں کا سوچ رہے ہیں تو ان کو اپنے سابقہ موقف کی طرف آنا چاہئے،احتساب ان کا بھی ہو جو حکومت میں ہیں اور ان کا بھی جو اپوزیشن کی صفوں میں ہیں، ہمیں صاف اور شفاف پاکستان چاہئے،اگر عدالتی نظام پر اعتماد بحال نہ ہوا تو مایوسی سے معاشرے میں تشدد اور عدم برداشت کا کلچر فروغ پاتا ہے،پیپلزپارٹی کا پانامہ پرتماشائی بننا مناسب نہیں،وہ بھی فعال کردار ادا کریں ورنہ قوم سمجھے گی کہ شاید پیپلزپارٹی احتساب نہیں چاہتی، ترک صدر کا پاکستان کا دورہ مفید اور مبارک ہے ان کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

تحریک انصاف کو فون کر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کا مشورہ دیا ہے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے نائب امراء میاں محمد اسلم، اسد اللہ بھٹو، صوبہ پنجاب کے امیر میاں مقصود احمد اور آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر محمد کاشف چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پانامہ لیکس ایک انتہائی سنجیدہ کیس ہے، یہ کسی فرد یا تنظیم کا نہیں بلکہ 20 کروڑ عوام کے مفادات اور مستقبل اس سے وابستہ ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ یہ کیس نتیجہ خیز ہو اور عدالتی کارروائی کے نتیجے میں کرپشن سے پاک پاکستان عوام کو ملے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت احتساب سے بچنے کے لئے تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔ کیس کی سماعت کے دوران وکلاء کی تبدیلی حکومتی بینچوں کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کمیشن کے بغیر کوئی اور حل اس لئے منظور نہیں کہ کمیشن کا مطالبہ تمام اپوزیشن کا مطالبہ تھا اور ہے۔

ایسا کمیشن جو ٹرائل کرے، تحقیق کرے اور سپریم کورٹ اس کی نگرانی کرے جبکہ نیب سمیت تمام ادارے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق کمیشن کے تابع ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اب عدالت میں جو دستاویزات پیش کی گئی ہیں وہ غلط ہیں یا درست اس بات کا حساب کتاب کون کرے گا۔ عدالت میں کوئی اخبار کا تراشہ بھی پیش کر سکتا ہے۔ انتہائی بااعتماد افراد پر مشتمل ایک ٹیم کو باہر جا کر عدالت کو مطلوب دستاویزات اکٹھی کرنا چاہئیں۔

کوئی فرد انفرادی طور پر یہ نہیں کر سکتا بلکہ نیب کر سکتا ہے جس کے دوسرے ملکوں کے ساتھ معاہدے ہیں۔ اگر مجھے کوئی پانامہ سے ثبوت لانے کا کہے تو یہ مجھ پر فالتو بوجھ اور فرار کا راستہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 18:26:31 :وقت اشاعت