جس آزاد فضا میں آج ہم سانس لے رہے ہیں چار سال پہلے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا،پرویزخٹک
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:49 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:48 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:46 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:44 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:42 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:41 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:39 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:36 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:27:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:51:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

جس آزاد فضا میں آج ہم سانس لے رہے ہیں چار سال پہلے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا،پرویزخٹک

کامیاب ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے ہم ساری دنیا میں سرخرو ہو ئے،جن معاشروں میں تعلیم کا پائیدار نظام ،مضبوط روایات نہ ہوں وہاں برائیوں کے جنم لینے کی گنجائش موجود رہتی ہے،مفاد پرست ٹولے نے دوہرا تعلیمی نظام قائم کرکے جان بوجھ کر امیر اور غریب کے درمیا ن خلا پیدا کیا،وزیراعلی خیبرپختونخوا

,پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ جس آزاد فضا میں آج ہم سانس لے رہے ہیں چار سال پہلے اس کا تصور بھی نا ممکن تھا۔ اس وقت دہشت گردی عروج پر تھی اور اب ہر طرف امن کا سما ںہے۔ کامیاب ضرب عضب آپریشن کی وجہ سے ہم ساری دنیا میں سرخرو ہو ئے۔ انہوں نے پائیدار تعلیمی نظام اور مضبوط روایات کو قومی ترقی کا ضامن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جن معاشروں میں تعلیم کا پائیدار نظام اور مضبوط روایات نہ ہوں وہاں برائیوں کے جنم لینے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔

ہمارا کمزور تعلیمی نظام زمانے کے بدلتے تقاضوں کا مقابلہ نہ کر سکا۔ قوم دشمن حکمرانوں اور مفاد پرست سیاستدانوں نے اس نظام کو اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا۔ مفاد پرست ٹولے نے دوہرا تعلیمی نظام قائم کرکے جان بوجھ کر امیر اور غریب کے درمیا ن خلا پیدا کیا کیوں کہ اسی امتیازی نظام سے ان کے مفادات وابستہ تھے۔ تحریک انصاف ان قوم دشمن قوتوں اور برائیوں کی ضد کے طور پر سامنے آئی۔

سرمایہ دارانہ سوچ کو چیلنج کیا اور 70سال سے تباہ حال اداروں کا قبلہ درست کرنے کیلئے کام شروع کیا۔ ہم سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے برابر لاکھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے اقدامات کی وجہ سے اب پرائیویٹ اداروں سے لوگ سرکاری سکولوں میں آرہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کیڈٹ کالج سوات میں یوم والدین کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جنرل آفیسر کمانڈنگ آرمی ڈویژن ملاکنڈ اور چیئرمین بورڈ آف گورنرز کیڈٹ کالج سوات میجر جنرل آصف غیور، پرنسپل کیڈٹ کالج سوات،اساتذہ کرام، والدین اور کیڈٹس نے تقریب میں شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے تعلیم و تدریس اور کردار سازی مین کامیابی کیلئے کالج کے اساتذہ اور انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کیڈٹ کالج سوات کی تعمیر کے تیسرے مرحلے کیلئے 1.35ارب روپے دینے کا اعلان کیا جو ڈیڑھ سال کے اندر دو اقساط میں فراہم کئے جائیں گے۔

اس کے ساتھ تعلیمی اخراجات کی مد میں 20ملین روپے کا اعلان بھی کیا اور یقین دلایا کہ تعلیمی ادارے کی سربلندی کیلئے حکومت ہر ممکن تعاون کریگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہی فرق ہے ہمارے کل اور آج میں۔ چار سال پہلے یہاں پر دہشگردی کا راج تھا۔ عوام نے بڑی مصیبتیں اٹھائیں، تکالیف برداشت کیں اور بے تحاشہ قربانیاں دیں۔

اس خطے کے غیور عوام اور سیکیورٹی فورسز نے قربانیوں کی ایک لا زوال داستان رقم کی لیکن دہشتگردی پر قابو پا لیا۔ پاک فوج نے عوام کی حمایت سے معاشرے کے ناسوروں کا خاتمہ کیا۔وزیراعلیٰ نے یکساں اور مضبوط نظام تعلیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم کے مقاصد کا تعین نہ کر لیں یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتا۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ تعلیم کا مقصد کیا ہے اور انسان کی زندگی میں اسکی اہمیت کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں میں تعلیم کا پائیدار نظام نہ ہو، وہاں کی روایات مضبوط نہ ہوں ، وہاں برائیوں کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ وہ معاشرے جو اپنے تعلیمی نظام پر توجہ نہیں دیتے وہ فساد اور تباہی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک میں کمزور تعلیمی نظام سے سسٹم چلتا رہا۔ مگر یہ بدلتے ہوئے زمانہ کے تقاضوں کا مقابلہ نہ کر سکا۔ جس کی وجہ سے نظام کے دشمن مخصوص ٹولوں نے انہیں استعمال کیا۔

جس کے پاس بھی اختیارات آئے ۔ انہوں نے اداروں کو اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کیا۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 18:27:41 :وقت اشاعت