پاکستان، انڈونیشیا کا تجارتی حجم 2.3 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، ہادی سانتوسو
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید تجارتی خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 19:01:29 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:29 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:29 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:26 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:25 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:24 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:22 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 18:06:21 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:39:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:39:30 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:14:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

پاکستان، انڈونیشیا کا تجارتی حجم 2.3 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، ہادی سانتوسو

اجناس کے تبادلے، حلال فوڈز صنعت میں تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں، شمیم احمد فرپو

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) انڈونیشیا کے قونصل جنرل ہادی سانتوسو نے کہا ہے کہ نومبر 2014ء میں جب انہوں نے بطور قونصل جنرل ذمہ داریاں سنبھالیں تو اُس وقت دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم 1.6 ارب ڈالر تھا اور اب جب وہ اپنی مدت کامیابی کے ساتھ مکمل کرکے یہاں سے روانہ ہورہے ہیں تو نومبر 2016ء میںتجارتی حجم بڑھ کر 2.3 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔

یہ بات انہوں نے کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) میں الوداعی دورہ کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو، سینئر نائب صدر آصف نثار، نائب صدر محمد یونس سومرو، چیئرمین ڈپلومیٹک مشنز و ایمبیسیز لائژن سب کمیٹی الطاف اے غفار، پاکستان انڈونیشیا بزنس فورم کے چیئرمین شمون ذکی اور منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔

ہادی سانتوسو نے اپنی تعیناتی کی مدت کے دوران تاجرو صنعتکاروں باالخصوص کراچی چیمبر کے تعاون کو سراہا جس کی بدولت انہیں بے شمار اہداف حاصل کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہاکہ وہ سندھ کے لوگوں کی مہمان نوازی اور تعاون سے بہت زیادہ متاثر ہوئے خاص طور پر کراچی والوں سے جو انڈونیشیا میں اپنے بھائی، بہنوں کے ساتھ تجارتی و ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں بہت زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

اگرچہ دوطرفہ تجارت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے تاہم تجارتی حجم دستیاب گنجائش سے بہت کم ہے جسے نئی بلندیوں پر لے جانے کی ضرورت ہے اور یہ مشترکہ شراکت داری سے ہی ممکن ہے۔ اس ضمن میں دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے جس کے یقینی طور پر مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ دوطرفہ تجارتی تعلقات میں تیزی سے اضافے کے باعث دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں، اگرچہ اُن کے لئے کراچی چیمبر اور دیگر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 18:06:24 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان