نائن الیون کے بعد 2015 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:46:49 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:53 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:11:53 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:27:06 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:03:10 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:33 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:30 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:27
پچھلی خبریں - مزید خبریں

نائن الیون کے بعد 2015 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ نفرت پر مبنی جرائم میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد 5479 سے 5850 تک تجاوز کرگئی۔ایف بی آئی

صدارتی انتخابات کے بعد مسلمانوں خصوصا خواتین کے نفرت انگیزواقعات میں اضافہ ہوا ہے-کئی ریاستوں میں مساجد اور اسلامی مراکزکودھمکیاں مل رہی ہیں:سی اے آئی آر

واشنگٹن(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2016ء)امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق 2001 میں رونما ہونے والے نائن الیون کے واقعے کے بعد سے سال 2015 میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ کیے جانے والے واقعات کے اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ 2014 کے مقابلے میں 2015 میں نفرت پر مبنی جرائم میں 6.7 فیصد اضافہ ہوا اور واقعات کی تعداد 5479 سے 5850 تک تجاوز کرگئی۔

واضح رہے کہ یہ تعداد 2000 کے آغاز میں سامنے آنے والے واقعات سے کافی کم ہے تاہم ایف بی آئی کی یہ رپورٹ اس وقت سامنے آئی ہے جب صدارتی انتخاب کے بعد امریکا میں قومیت اور مذہب کے نام پر حملوں کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔ایف بی آئی کی تازہ رپورٹ سال 2015 میں ہونے والے جرائم کا احاطہ کرتی ہے جس میں پیرس، سان برنارڈینو، کیلی فورنیا میں ہونے والے دہشت گرد حملوں سمیت ری پبلکن امیدوار ڈونلد ٹرمپ کی جانب سے امریکا میں مسلمانوں کی داخلے پر پابندی کے بیان شامل ہیں، تاہم یہ تمام واقعات سال کے آخری 2 ماہ میں پیش آئے ہیں۔

ناقدین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان نے مسلم مخالف جذبات کو مزید ابھارا۔امریکا میں نفرت پھیلانے والے گروہوں پر نظر رکھنے والے ادارے سدرن پوورٹی لا سینٹر سے تعلق رکھنے والے مارک پوٹوک اس بارے میں کہتے ہیں کہ ہم نے ڈونلڈ ٹرمپ جیسی عوامی شخصیات کے الفاظ کو تشدد میں ڈھلتے دیکھا ہے۔گذشتہ سال مسلم مخالف جذبات کے نتیجے میں سامنے آنے والے واقعات کی تعداد 257 تھی جبکہ اس سے قبل 2014 میں 154 ایسے واقعات سامنے آئے، یعنی ان واقعات کی شرح میں 67 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سب سے زیادہ ایسے واقعات 2001 میں سامنے آئے تھے جب ان کی تعداد 481 تک پہنچ گئی تھی۔

امریکن اسلامک ریلشنز کونسل کے ترجمان ابراہیم ہوپر 2015 میں ہونے والے اس اضافے پر کسی حیرانی کا اظہار نہیں کرتے اور ان کے مطابق یہ سلسلہ شاید یوں ہی جاری رہے۔ابراہیم ہوپر کے مطابق 2015 کے آخر میں ہم نے مسلم مخالف واقعات میں تیزی دیکھی اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کے بعد بھی یہ واقعات بڑھتے رہے۔8 نومبر کو ہونے والے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد سے امریکا بھر سے نسلی امتیاز اور مذہب مخالف واقعات کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔

یارک کاو¿نٹی، پنسلوانیا کے ووکیشنل اسکول میں دو طلبا نے ڈونلڈ ٹرمپ کا نشان شیئر کیا جس پر کسی نے ’وائٹ پاور‘ کا نعرہ لگایا اور اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔سلور سپرنگ، میری لینڈ میں بھی ہسپانوی زبان سکھانے والے کسی ادارے کے بینر کو پھاڑ کر اس پر ’ٹرمپ نیشن، وائٹس اونلی‘ کے الفاظ لکھ دیئے گئے۔سی اے آئی آر کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ کی کامیابی کے بعد متعددریاستوں میں مسلمانوں پر حملے ہوئے ہیں اور خصوصا خواتین کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 17:03:10 :وقت اشاعت