تیتروں کے شکار کا سیزن 20نومبرتا 5فروری ہو گا، محکمہ جنگلی حیات
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 17:18:28 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:59:02 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:59:02 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:39:35 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:39:35 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:39:33 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:21:49 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:12:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:12:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:12:34 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:12:34
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

تیتروں کے شکار کا سیزن 20نومبرتا 5فروری ہو گا، محکمہ جنگلی حیات

پشاور۔15نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) خیبر پختونخوا میں تیتروں کے شکار کے سیزن کا آغاز 20نومبرسے ہوگا اور5فروری 2017تک جاری رہے گا۔یہ شکار مخصوص علاقوں یعنی گیم ریزرو، پرائیوٹ گیم ریزرو اور کمیونٹی ریزرو کے علاوہ ممنوع ہے اور قانونی شوٹننگ لائسنس رکھنے والوں کو صرف اتوار کے روز اور مشتہر شدہ سرکاری تعطیل کے روز شکار کی اجازت ہو گی جبکہ گیم ریزرو میں شکار کی اجازت چیف کنزرویٹر وائلڈ لائف خیبر پختونخوا کے جاری کردہ خصوصی پرمٹ کے ذریعے ہو گی نیز ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 5تیتر (بشمول سب اقسام کی) فی کس شکار کرنے کی اجازت ہو گی۔

زائد پرندے شکار کرنے پر عوضانہ کے علاوہ فی پرندہ 1200/-روپے جرمانہ وصول کیا جائے گا۔گیم ریزرو میں ایک دن میں زیادہ سے زیادہ پارٹیوں جن کے پاس 5سے زیادہ بندوق نہ ہوں کو شکار کی اجازت ہو گی۔کمیونٹی گیم ریزرو میں شکار، ویلج کنزرویشن کمیٹی کی مرضی کے مطابق ہو گا اور ان سے اجازت لینی ہو گی جبکہ پرائیوٹ گیم ریزرومیں شکار پرائیوٹ گیم ریزرو کے مالک سے اجازت لینے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

مجوزہ فیس کی آدائیگی پر شکار ی کتے کے استعمال کی اجازت ہو گی۔ لیکن شکار کیلئے خود کار ہتھیار بشمول رپیٹر بندوق کے استعمال کی ممانعت ہو گی۔لائسنس /سپیشل پرمٹ سال برائی2016-17کے شکارسیزن کیلئے سمال گیم شوٹننگ لائسنس Rs.2000/-،سپیشل پرمٹ گیم ریزرو شکار کیلئے Rs.3000/-اور پوزیشن لائسنس شکاری کتے کیلئے Rs.1000/-لاگو ہونگے۔شکار کی دیگر شرائط وہی ہونگی جو کہ خیبر پختونخوا کے جنگلی حیات کے قانون مجریہ 2015اور اس کے تحت بنائے گئے ضوابط میں دی گئی ہیں۔ا س امر کا اعلان محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا کی پریس ریلیز میں کیا گیا ہے۔
15/11/2016 - 16:39:33 :وقت اشاعت