لندن کے فلیٹ قطر میں سرمایہ کاری کے منافع سے خریدے گئے ،ْ سپریم کورٹ میں قطری شہزادے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:09:24 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:09:23 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:09:20 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:09:19 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:06:58 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:06:57 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:06:55 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 15:52:54 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 15:50:27 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:06:51 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 16:06:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

لندن کے فلیٹ قطر میں سرمایہ کاری کے منافع سے خریدے گئے ،ْ سپریم کورٹ میں قطری شہزادے کا خط پیش

میرے والد کے مرحوم میاں محمد شریف کے ساتھ کاروباری مراسم تھے ،ْ حمد جاسم کا خط

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء)سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے مقدمے کی سماعت کے دوران وزیر اعظم کے بچوں کے وکیل اکرم شیخ نے جمع کروائی گئی دستاویزات میں قطر کے شاہی خاندان کے رکن اور سابق وزیر خارجہ حمد بن جاسم بن جبر الثانی کی جانب سے ایک خط عدالت میں پیش کیا ہے جس کے مطابق شریف خاندان نے 1980 میں الثانی گروپ میں ریئل اسٹیٹ میں جو سرمایہ کاری کی تھی اس سے لندن میں بعد میں چار فلیٹ خریدے گئے تھے۔

منگل کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے جب پاناما لیکس کے بارے میں درخواستوں پر سماعت شروع کی تو مریم، حسین اور حسن نواز کے نئے وکیل اکرم شیخ نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ ایک ایسا خط پیش کرنا چاہتے ہیں جو محض عدالت کیلئے ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر عدالت مناسب سمجھے تو اسے عام نہ کیا جائے لیکن جب قطر کے سابق وزیر اعظم اور شہزادے حمد بن جاسم بن جبر الثانی کی جانب سے لکھا گیا یہ خط عدالت کے سامنے رکھا گیا حمد بن جاسم بن جبر الثانی نے اپنے خط میں کہا کہ ان کے والد کے مرحوم میاں محمد شریف کے ساتھ دیرینہ کاروباری مراسم تھے جو ان کے بڑے بھائی کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔

انہوںنے کہاکہ دونوں خاندانوں کے درمیان آج بھی ذاتی تعلقات ہیں۔ حمد بن جاسم نے لکھا کہ انہیں بتایا گیا کہ 1980 میں میاں محمد شریف نے الثانی خاندان کے قطر میں جائیداد کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔ میری دانست کے مطابق اس وقت دبئی میں کاروبار کے فروخت سے ایک کروڑ بیس لاکھ درہم دئیے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے جواب میں کہا کہ جب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 16:06:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان