دنیا کو جمہوریت کا درس دینے اور جمہوریت کے نام پر کئی ملکو ںمیں فوجی مداخلت کرنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:44:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:35:45 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:40:45 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:37:20 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:16:38 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:14:54 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:13:03 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:18:06 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:15:00 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:13:42 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 14:13:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

دنیا کو جمہوریت کا درس دینے اور جمہوریت کے نام پر کئی ملکو ںمیں فوجی مداخلت کرنے والی دنیا کی واحد سپرپاور امریکا کے انتخابی نظام میں عوام کی اکثریت کی بجائے538الیکٹرورلزملک اور قوم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں-الیکٹورل کالج کے دو سو سالہ پرانے اور پیچیدہ تبدیل کرنے کے لیے 700سے زائد تجاویز دی گئیں، مگر ان تجاویز کو کانگریس یا سینیٹ سے منظوری نہ مل سکی۔امریکی قانون سازاپنے عوام کو براہ راست ووٹ کے ذریعے صدر چننے کا اختیار دینے کو تیار نہیں-امریکی انتخابی نظام پر خصوصی رپورٹ

نیویارک(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2016ء)دنیا کو جمہوریت کا درس دینے اور جمہوریت کے نام پر کئی ملکو ںمیں فوجی مداخلت کرنے والی دنیا کی واحد سپرپاور امریکا کے انتخابی نظام میںعوام کی اکثریت کی بجائے538الیکٹرورلزملک اور قوم کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انتخابات ختم ہونے کے باوجود عوام سڑکوں پر موجود ہیں اور نتائج کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

گزشتہ16 سال میں دوسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار امریکی صدارتی انتخاب میں کامیاب نہ ہوسکا۔ امریکی انتخابی نظام میں ایسا سقم باقی ہے جو کہ عوامی مقبولیت کے حامل فرد کو صدارتی انتخاب جیتنے سے روک سکتا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق الیکٹورل کالج جو صدر کا انتخاب کرنے والے 538 نمائندوں پر مشتمل ہوتا ہے میں حالیہ انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 306 اور ہیلری کلنٹن نے 232 ووٹ جیتے ہیں۔

جبکہ 9 نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں امریکا کے 23 کروڑ 10 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے 12 کروڑ 88 لاکھ افراد، یعنی 55.6 فی صد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔جن میں سے ہیلری کلنٹن نے 5 کروڑ 99 لاکھ سے زائد جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے 5 کروڑ 97 لاکھ سے زائد عوامی ووٹ لیے ہیں۔ اس طرح ہیلری کلنٹن نے 2 لاکھ 33 ہزار زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں۔مگر ہیلری زیادہ عوامی ووٹ حاصل کرنے کے باوجود الیکٹورل کالج میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہیں، اس وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ ووٹرز میں عددی برتری نہ رکھتے ہوئے بھی صدر منتخب ہوگئے ہیں۔

ایسی ہی صورتحال سال 2000 میں ڈیموکریٹس پارٹی کے امیدوار الگور اور ریپبلیکن پارٹی کے جارج ڈبلیو بش کے درمیان مقابلے میں سامنے آئی۔ سال 2000 کے صدارتی انتخابات میں بھی الگور نے 48.4 فی صد ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ جارج ڈبلیو بش نے 47.9 فی صد عوامی ووٹ حاصل کیے، مگر مقبول ووٹ حاصل کرنے والے الگور کو صرف 266، جبکہ جارج بش کو 271 الیکٹورل کالج ووٹ حاصل ہوئے۔

سال 2000 اور 2016 میں قدر مشترک ہے کہ عوامی ووٹ حاصل کرنے والا الیکٹورل کالج کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا، اور دونوں انتخابات میں ہارنے والی جماعت ڈیموکریٹس اور جیتنے والے ریپبلیکن رہی۔سال 2000 میں الگور نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے فلوریڈا میں دوبارہ ووٹوں کی گنتی کا مطالبہ کیا اور مہینوں کی قانونی جنگ کے بعد امریکی سپریم کورٹ نے ووٹوں کی دوبار گنتی کا عمل روکتے ہوئے جارج بش کو کامیاب قرار دے دیا۔

امریکا میں سال 2000 کے انتخابات متنازع قرار دیے جاتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ کا یہی فیصلہ ہے کہ شاید اس مرتبہ ہیلری کلنٹن نے قانونی جنگ لڑنے کے بجائے نتائج کو قبول کرلیا ہے۔امریکا کے بانیان نے امریکی آئین کی بنیاد رکھی تھی اور اس کے سربراہ کے انتخاب کا عمل وضع کیا تھا۔ جس وقت امریکی آئین میں صدارتی انتخابات کا طریقہ کار وضع کیا گیا، اس وقت امریکی ریاستوں کی تعداد 13 تھی جو کہ وقت کے ساتھ بڑھتے بڑھتے 50 تک پہنچ چکی ہے۔

وفاق ہر ریاست کو صدارتی انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج کی تعداد مقرر کرتا ہے۔امریکا میں وفاق کے بجائے ہر ریاست صدارتی انتخابات کا انعقاد کرتی ہے۔ اور پولنگ کے طریقہءِ کار اور ووٹوں کی گنتی کے کسی عمل میں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 14:14:54 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان