پانامہ لیکس کیس:پی ٹی آئی کی دستاویزات کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ،سپریم کورٹ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:54:58 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:47:14 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:54:58 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:54:58 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:33:41 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:54:58 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:54:57 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:52:37 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:52:37 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:52:37 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:52:37
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

پانامہ لیکس کیس:پی ٹی آئی کی دستاویزات کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ،سپریم کورٹ

درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کر دیا ،اخباری تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، اخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں،جسٹس عظمت سعید کے ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاناما لیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے جبکہ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے جمع کرائی گئی دستاویزات کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے ،درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کر دیا ہے،اخباری تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، اخبارایک دن خبر اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں۔

اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔منگل کے روز چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل لارجر بینچ پاناما لیکس کیس کی سماعت کی ، وزیراعظم کے بچوں حسین، حسن اور مریم نواز کی جانب سے اکرم شیخ عدالت میں پیش ہوئے جنہوں نے وزیر اعظم کے بچوں کی جانب سے جواب داخل کرایا، وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 400 صفحات سے زائد پر مشتمل دستاویزات عدالت عظمیٰ میں جمع کرائیں۔

دستاویزات میں وزیراعظم نواز شریف کے ٹیکس ادائیگی سمیت زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔دوسری جانب زمینوں کے انتقال نامے بھی دستاویزات میں شامل کیے گئے۔کیس کی ابتدائی سماعت میں طارق اسد عدالت کو بتایا کہ یہ بہت اہم کیس ہے ، تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوںگے۔ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے ۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کرپشن کی تحقیقات سپریم کورٹ کا کام نہیں ،کسی اے بی سی نے کرپشن کی ہے تو نیچے عدالتیں موجود ہیں ،طارق اسد صاحب کیا آپ اس عدالتی کارروائی کو سائیڈ ٹریک کرنا چاہتے ہیں ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے،چیف جسٹس نے کہا کہ چاہتے تھے کہ 2 یا 3 سماعتوں کے بعد فیصلہ کر لیں لیکن ایسا ممکن نہیں دکھائی دے رہا، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جبکہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔

ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے، عمران خان

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 12:54:58 :وقت اشاعت