ْعالمی سطح پر انٹرنیٹ آزاد نہیں رہا،صارفین کو سزائیں دینے کے حربے دوگنا ہوچکے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:45:31 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:45:30 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:45:28 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:45:28 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:45:28 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:48 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:47 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:46 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:43 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:05:03 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:05:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ْعالمی سطح پر انٹرنیٹ آزاد نہیں رہا،صارفین کو سزائیں دینے کے حربے دوگنا ہوچکے ہیں، رپورٹ

واشنگٹن ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) عالمی سطح پر انٹرنیٹ اتنا آزاد نہیں رہا جتنا آج سے چھ سال پہلے تھا، آزادیِ اظہار پر قدغن لگانے، ’انکرپشن ٹیکنالوجی‘ پر بندش لاگو کرنے اور قومی اہل کاروں کی جانب سے ناقابلِ قبول گردانے جانے والے مواد کو پوسٹ اور شیئرنگ کرنے والے صارفین کو سزائیں دینے کے حربے دوگنا ہوچکے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق یہ بات سالانہ ’فریڈم آن دی نیٹ‘ رپورٹ میں کہی گئی ہے، جس کی چند تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

یہ رپورٹ واشنگٹن ڈی سی میں قائم، جمہوریت نواز تھنک ٹینک، ’فریڈم ہاؤس‘ نے مرتب کی ہے، جس کے تحقیق کاروں کا اندازہ ہے کہ دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے دو تہائی صارفین ایسے ملکوں میں مقیم ہیں جہاں آن لائن سرگرمی پر سخت قدغن عائد ہی؛ جہاں پر اٴْن کی جانب سے پوسٹ کردہ اطلاعات پر سخت جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، جن میں قید کیا جانا اور کوڑے مارنے تک کی سزائیں شامل ہیں۔

دنیا کی65 ملکوں میں کرائے گئے رائے عامہ کے اس جائزے کی بنیاد پر یہ طے کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی آزادی کے حوالے سے چین، ایران، شام اور ایتھیوپیا میں سب

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 12:24:48 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان