وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:50:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:27:31 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:44 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:42 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:19:55 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:57 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:32 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:32 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا

سپریم کورٹ نے فریق مقدمہ بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کردیں مزید سماعت پرسوںجمعرات 17 نومبر تک ملتوی

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 نومبر2016ء) وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے بچوں کی جانب سے پانامہ لیکس کیس میں اپنا جواب جمع کرا دیا ہے جبکہ فریق مقدمہ بننے کی مختلف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے مزید سماعت جمعرات 17 نومبر تک ملتوی کردی‘فاضل بنچ نے ریمارکس دئیے ہیں کہ پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے‘ ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے‘ 700 صفحات ایک طرف سے جبکہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں‘ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں‘نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ‘ ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ‘ بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں‘ دستاویزات آ گئیں اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے‘ عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے‘اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، پی ٹی آئی کی دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں‘ اخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں‘ اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھا کو قتل کردیا ہے تو کیا ہم اللہ دتہ کو پھانسی دے دیں گے۔

منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس عظمت سعید ‘جسٹس جواد ایس خواجہ‘ امیر ہانی مسلم‘جسٹس آصف سعید کھوسہ ‘جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل 5 رکنی بنچ نے پامانا لیکس کیس کی سماعت کی۔اس موقع پر عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم کے بچوں حسین، حسن اور مریم نواز نے اپنا وکیل تبدیل کرلیا ہے۔ اب سلمان بٹ کی جگہ اکرم شیخ عدالت میں پیش ہوئے ہیں۔

سماعت کے آغاز پر طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔

ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 12:24:40 :وقت اشاعت