پانامالیکس:وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:24:40 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:19:55 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:57 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:32 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:32 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:12:31 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 12:05:11 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 11:55:18 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 11:50:49 وقت اشاعت: 15/11/2016 - 11:55:23
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پانامالیکس:وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کروادی گئیں۔ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔تحریک انصاف کی جانب سے پیش کردہ شواہدمسترد

ا سلام آباد(اردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15 نومبر۔2016ء)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرا دیں۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔

آج ہونے والی سماعت کے دوران وزیراعظم اور ان کی صاحبزادی مریم نواز نے 400 صفحات سے زائد پر مشتمل دستاویزات عدالت عظمیٰ میں جمع کرائیں۔دستاویزات میں وزیراعظم نواز شریف کے ٹیکس ادائیگی سمیت زمین اور فیکٹریوں سے متعلق تفصیلات شامل ہیں۔دوسری جانب زمینوں کے انتقال نامے بھی دستاویزات میں شامل کیے گئے ہیں۔بعدازاں کیس کی سماعت جمعرات 17 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے اور نا ہی بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام ہے۔ سماعت کے آغاز پر درخواست گزار طارق اسد ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کی گزشتہ سماعت کا حکم پڑھا۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ آف شور کمپنیوں کے مالک تمام ارکان پارلیمنٹ کے خلاف تحقیقات کی جائے، یہ بہت اہم کیس ہے ، مقدمہ تیزرفتاری سے چلانے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوں گے۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایسا لگتا ہے آپ درخواست گزار نہیں نواز شریف کے وکیل ہیں، آپ کے جواب سے لگتا ہے کہ آپ مقدمے کا فیصلہ نہیں چاہتے، یہ ہمارا کام ہے ، انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے، اگر 800 افراد کی تحقیقات شروع کی تو 20 سال لگ جائیں گے، پاناما لیکس پر اتنی درخواستیں آرہی ہیں شاید الگ سے سیل کھولنا پڑے، ایک درخواست میں 1947 سے احتساب کی استدعا کی گئی ہے، 700 صفحات ایک طرف سے جب کہ دوسری جانب سے 1600 صفحات جمع کرائے گئے ہیں۔

ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کو اسکین کرلیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں ، ہم بار بار کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ، بدعنوانی یا کرپشن مقدمات کی سماعت کرنا سپریم کورٹ کا کام نہیں، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے، عمران خان کی درخواست چار فلیٹس تک محدود ہے اس لیے پہلے سنیں گے۔

جسٹس عظمت سعید نے تحریک انصاف کے وکیل حامد خان سے استفسار کیا کہ درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے-پی ٹی آئی کی دستاویزات میں اخباری تراشے بھی شامل ہیں حالانکہ اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا- پی ٹی آئی کی ان دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیںاخبارایک دن خبر ہوتا ہے اگلے روز اس میں پکوڑے فروخت ہوتےہیں۔ اگر اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/11/2016 - 12:12:32 :وقت اشاعت