وفاق افغان مہاجرین کے بارے میں جلدفیصلہ کرے،غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی وجہ سے سیکورٹی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:51:49 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:51:48 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:51:47 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:51:46 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:50:26 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:50:24 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:02:43 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:02:43 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:02:43 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:50:22 وقت اشاعت: 14/11/2016 - 22:48:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

وفاق افغان مہاجرین کے بارے میں جلدفیصلہ کرے،غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی وجہ سے سیکورٹی مسائل پیدا ہوتے ہیں ،،پرویزخٹک

مہاجرین کے یہاں قیام کاکوئی طریقہ کار ہے نہ اُن کے کاروبار کرنے کا ریگولر طریقہ ہے جس سے معیشت پر بلیک معیشت کے سائے منڈلا رہے ہیں،وزیراعلی خیبرپختونخوا

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 نومبر2016ء)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے وفاق سے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کے بارے میں جلدفیصلہ کرے ۔غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی وجہ سے سیکورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں مہاجرین کے یہاں قیام کاکوئی طریقہ کار ہے اور نہ ہی اُن کے کاروبار کرنے کا ریگولر طریقہ ہے جس کی وجہ سے ہماری معیشت بلیک معیشت کے سائے منڈلا رہے ہیں ہمارے تعلیمی اورصحت کے اداروں پر اضافی بوجھ ہے شربت گلہ جیل میں نہیں بلکہ ہسپتال میں تھی اُس نے خود درخواست دی تھی کہ وہ یہاںقیام کرنا چاہتی ہے ہم اُس کو مہاجر کا سٹیٹس دے کر قیام دینا چاہتے تھے لیکن شربت گلہ نے فوری طور پر ذہن تبدیل کیا اس کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ہمیں معلوم نہیں ۔

نادرا نے ہمارے لوگوں کے شناختی کار ڈ بلاک کرکے شرمند ہ کیا ہے ۔ شناختی کارڈ بلاک کرنا ایک خطرناک عمل ہے اور ملک کو مسائل میں دھکیلنے کے برابر ہے ۔ پیر کے روز اسلام آباد میں وزارت سیفران کی طرف سے مہاجرین سے متعلق بلائے گئے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہم مہاجرین کو زبردستی بے دخل کر رہے ہیں نہ روک رہے ہیں ۔ ہمارا مسئلہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین ہیں جن کی وجہ سے سکیورٹی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

مہاجرین کو توسیع دینی ہے یا نہیں دو ٹوک فیصلہ ہونا چاہیے۔ تاہم توسیع طویل نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ ایک طریق کار وضع کرے۔یکسوئی کے ساتھ پلان بنائے۔ فیصلہ کرے کہ ہم نے آگے کس طرف جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بین الاقوامی برادری نے وسائل فراہم کردیئے ہیںاورسسٹم موجود ہے تو نادرا رجسٹریشن کا عمل شروع کیوں نہیں کرتا۔بلاوجہ رخنہ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم گزشتہ تین دہائیوں سے افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہے ہیں۔ کوئی بھی ذی شعور اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔ درحقیقت صوبے کو جو مسائل ہیں ان کو ہماری جگہ کھڑاہو کر سمجھنا چاہیے۔بلاشبہ غیر رجسٹرڈ مہاجرین کی وجہ سے امن و امان کا مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ آرمی پبلک سکول اور چارسدہ یونیورسٹی جیسے واقعات نے ہمارے سامنے ایک چیلنج رکھ دیا ہے۔

سوچنے والی بات ہے کہ بغیر کسی دستاویزی ثبوت اور شناخت کوئی کیسے گھوم پھر سکتا ہے۔ دُنیا میں کہیں ایسا نہیں ہو تا ۔دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس طرح مہاجرین کے یہاں قیام کا طریق کار نہیں ہے اسی طرح ان کے کاروبار کرنے کا بھی ریگولر طریقہ نہیں ہے۔ ان کی وجہ سے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ بلیک معیشت پنپ رہی ہے۔ صحت و تعلیم کے اداروں کی استعداد مقامی آبادی کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی تھی ۔

مہاجرین نے اس انفراسٹرکچر پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔ مذکورہ صورتحال کی وجہ سے مقامی معیشت پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ عوام کوکن پریشانیوں کا سامنا ہے۔ عوام کا نقطہ نظر کیا ہے وہ کیا چاہتے ہیں۔ ان حقائق کو سمجھے بغیر ہمارا کوئی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/11/2016 - 22:50:24 :وقت اشاعت