یو رپ اور امریکہ کیلئے تنہا آگے بڑھنا کوئی آپشن نہیں ہے ، نیٹو سربراہ کا ٹرمپ کو انتباہ

اتوار 13 نومبر 2016 18:40

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آئی این پی۔ 13 نومبر2016ء) نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹینبرگ نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ یا یورپ کے لیے تنہا آگے بڑھنا کوئی آپشن نہیں ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جینز سٹولٹینبرگ کا کہنا ہے کہ مغرب نے بڑے سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا کیا ہے۔امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مغربی فوجی اتحاد یعنی نیٹو کو ناکارہ قرار دیا تھا۔

انھوں نے مشورہ دیا تھا کہ امریکہ کو کسی بھی نیٹو اتحادی جس نے اپنے واجبات ادا نہ کیے ہوں کی مدد کے لیے دو بار سوچنا ہوگا۔بریٹن آبزرور اخبار میں لکھتے ہوئے جینز سٹولٹینبرگ نے بعض رکن ممالک کی جانب سے بڑے پیمانے پر مالی حصے دینے کی ضروت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی بات کو تسلیم کیا۔

(جاری ہے)

کیونکہ اس وقت امریکہ نیٹو کے تقریبا 70 فیصد اخراجات ادا کر رہا ہے۔

تاہم انھوں نے مزید کہا کہ امریکی رہنما ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ مستحکم اور محفوظ یورپ ان کے گہرے اور سٹریٹجک مفواد میں ہے۔ناروے کے سابق وزیر اعظم نے مزید لکھا کہ آزادی، سکیورٹی اور کامیابی کو خاطر میں نہ لانا بہت آسان ہے۔ ان غیر یقینی حالات میں ہمیں مضبوط امریکی قیادت کی ضرورت ہے اور ہمیں ضرورت ہے کہ یورپ بھی برابر بوجھ اٹھائے۔

ان کا کہنا تھا کہ تنہا آگے بڑھنا نہ تو امریکہ اور نہ ہی یورپ کے لیے کوئی آپشن ہے۔ ہمیں اس وقت شدید سکیورٹی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ یہ یورپ اور امریکہ کے درمیان شراکت کی اہمیت پر سوال اٹھانے کا وقت نہیں ہے۔جینز سٹولٹینبرگ نے امریکہ پر ہونے والے نائن الیون کے حملے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت نیٹو نے اپنے دفاع کی شق کا استعمال کیا جس کے لیے تمام رکن ممالک کا اس ملک کی مدد کے لیے پہنچنا ضروری ہے جس پر حملہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک علامت سے کہیں زیادہ ہے۔ نیٹو نے افغانستان میں آپریشن کی قیادت سنبھالی، سینکڑوں ہزاروں یورپی فوجی افغانستان میں اس کے بعد سے لڑے۔ہزاروں نے اس آپریشن کی قیمت ادا کی جو کہ براہ راست امریکہ پر حملے کے نتیجے میں شروع کیا گیا۔

متعلقہ عنوان :