سرمایہ کاری پالیسی 2013ء اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صنعتی پالیسی کی گنجائش نہیں، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 23:00:58 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:51:12 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:51:12 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:47:23 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:46:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:45:11 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:42:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:40:14 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:37:09 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:35:51 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:34:52
- مزید خبریں

اسلام آباد

سرمایہ کاری پالیسی 2013ء اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صنعتی پالیسی کی گنجائش نہیں، موجودہ حکومت نے سرمایہ کاری پالیسی میں صنعتی شعبہ کی ترقی کو خاص اہمیت د ی

ہے جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سارے صنعتی شعبے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، اب صوبوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی اپنی عملداری میں صنعتی ترقی کیلئے اقدامات کریں , وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی کی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

اسلام آباد ۔ 12 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء) وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضی خان جتوئی نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری پالیسی 2013ء اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صنعتی پالیسی کی گنجائش نہیں، موجودہ حکومت نے سرمایہ کاری پالیسی میں صنعتی شعبہ کی ترقی کو خاص اہمیت دی ہے جبکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سارے صنعتی شعبے صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں، اب صوبوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی اپنی عملداری میں صنعتی ترقی کیلئے اقدامات کریں۔

جمعہ کو میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک چائنہ اقتصادی راہداری متذکرہ سرمایہ کاری پالیسی کاہی ایک پھل ہے، اقتصادی راہداری محض ایک گزرگاہ کا نام نہیں بلکہ مکمل اقتصادی، معاشی و صنعتی ماسٹر پلان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے کا سب سے اہم ترین پہلو صنعتی و معاشی زونز کا قیام ہے، آئندہ چند سالوں میں پاکستان سرمایہ کاروں کیلئے جنت بن جائے گا اور پاکستانی افرادی قوت کو دوسرے ملکوں میں معاش کی تلاش میں نہیں جانا پڑے گا بلکہ دیگر ممالک کے لوگ پاکستان میں روز گارکی تلاش میں آئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 22:47:23 :وقت اشاعت