پورے ملک سے سودکی لعنت کو ختم کیاجائے،خیبر پختونخوااسمبلی میں قرارداد میں وفاقی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:51:12 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:51:12 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:47:23 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:46:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:45:11 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:42:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:40:14 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:37:09 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:35:51 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:34:52 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:34:52
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پورے ملک سے سودکی لعنت کو ختم کیاجائے،خیبر پختونخوااسمبلی میں قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ

صوبائی اسمبلی میں نجی سودکی حالت امتناعی پر پابندی سمیت آٹھ بل پیش

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء) خیبر پختونخوااسمبلی نے ایک قرارداد کے ذریعے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پورے ملک کے اندر سودکی لعنت کو ختم کیاجائے جبکہ اسمبلی میں نجی سودکی حالت امتناعی پر پابندی سمیت آٹھ بل پیش کئے گئے ،جمعہ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی اجلاس کے دوران 8بلوں میں سے خیبرپختونخوالمیٹیشن بل 2016ء کو متفقہ طور پر پاس کیاگیا سینئرصوبائی وزیرعنایت اﷲ نے لمیٹیشن بل کے پاس ہونے کے بعد ایوان کوبتایاکہ سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے مخالفت کے بعد 1908ء کے لمیٹیشن بل میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی دوشقوں کو ختم کردیاگیاہے ماضی میں اگرکسی کی جائیدادیاکوئی اورچیز اجارے پر کسی شخص کے پاس ساٹھ سال تک تو وہ خودبخوداسکامالک بن جاتااس شق کو اسلامی نظریاتی کونسل اورسپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیاجسکے بعد قانون سازی کے ذریعے اس کو ختم کردیاگیاہے ۔

پرائیویٹ ممبردن کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کے فخراعظم وزیر،تحریک انصاف کے محمودجان ،قومی وطن پارٹی کے سلطان محمداورجماعت اسلامی کے اعزازالملک نے نجی سودکی حالت امتناعی پرپابندی کے حوالے سے بل کو پیش کیا جس کو بعدازاں اسمبلی سے منظورکیاجائے گا اس بل کے تحت کوئی بھی شخص یا گروپ سودکی بنیاد پرکسی کوقرض نہیں دے سکتا اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔

سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔اسی طرح اس حوالے سے کوئی شکایت کرتاہے تو تین دنوں کے اندر ایک کمیشن بناکر پولیس کو رپورٹ کی جائے گی اوراس حوالے سے کیسزکی شنوائی جوڈیشل مجسٹریٹ سے کم کی عدالت میں نہیں ہوگی ۔مذکورہ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکتااسی طرح عدالت کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی۔

بل کے تحت اگرکسی نے اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی اب نہیں کریگابل کے مطابق اگرکسی شخص نے سودپر قرضہ لیاہواہے اور اب وہ ادائیگی نہیں کرسکتاتوعدالتی احکامات کی روشنی میں اس کے اثاثے اورگھرسمیت کاروبار کو نیلام کرکے ادائیگی کرسکتاہے۔عدالت اس طرح کے کیسوں پر تیس دنوں میں فیصلہ سنائے گی مذکورہ قانون کے پاس ہونے کی صورت میں اس حوالے سے موجود2007ء کاایکٹ منسوخ ہوجائے گاصوبائی اسمبلی میں سودکی لعنت سے چھٹکاراپانے کیلئے جماعت اسلامی کے سعیدگل کی پیش کردہ قراردا کومتفقہ طورپر منظورکرلیاگیا۔

قراردادکے متن کے مطابق قرآنی احکامات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 22:42:13 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان