دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 فیصد نتائج کا دعویٰ قبل از وقت ہے،یہ ایک بڑی جنگ ہے، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:21:23 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:21:22 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:20:02 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:20:02 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:15:57 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:14:39 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:14:38 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 22:06:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 فیصد نتائج کا دعویٰ قبل از وقت ہے،یہ ایک بڑی جنگ ہے، اس کے خاتمے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ہے ، محمود خان اچکزئی کو غدار کہنا غلط ہے

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی کوئٹہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 100 فیصد نتائج کا دعویٰ قبل از وقت ہے،یہ ایک بڑی جنگ ہے، جس کے خاتمے کا کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جاسکتا ہے، اس جنگ میں کامیابی کے لئے تمام اداروں کو یکجا ہو کر نیا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا ، محمود خان اچکزئی کو غدار کہنا غلط ہے۔

وہ جمعہ کو نجی اسپتال میں کوئٹہ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیاسے بات چیت کررہے تھ یے،اس موقع پر جے یو آئی سندھ کے نائب امیر قاری محمد عثمان اور دیگر بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سانحہ کوئٹہ کو انٹیلی جنس فیلیئر نہیں کہا جاسکتا۔انسانوں سے خامیاں ہر جگہ ہوسکتی ہیں اور اداروں کی ازسر نو صف بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظ پاکستان ایکٹ ایک امتیازی قانون ہے۔

فوجی عدالتوں کا قیام اسی ایکٹ کا حصہ تھا۔ اس امتیازی قانون کی منظوری پر ہم نے مخالفت کی

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 22:20:02 :وقت اشاعت