خیبرپختونخوا اسمبلی میں سودکے خاتمے سمیت دوقراردادیں منظور
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:58:42 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:58:42 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:55:38 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:51:20 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:49:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:46:57 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:46:57 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:45:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:44:33 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:44:33 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:44:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سودکے خاتمے سمیت دوقراردادیں منظور

اسمبلی میں آٹھ بل پیش کئے گئے، ایک بل پاس کیاگیا ،باقی سات پر بحث ہوگی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)خیبرپختونخوا اسمبلی میں سودکے خاتمے سمیت دوقراردادیں منظورجبکہ پیش کئے گئی آٹھ بلوں میں ایک بل پاس کیاگیا جبکہ باقی سات پر بحث ہوگی۔اسمبلی نے سود کے خاتمے اور اسلامی ہستیوں اورمقدس مقامات کے پورے اوردرست الفاظ لکھنے کی قراردادیں منظور کرلی ،قرار داد میں کہا گیا ہے کہ انگریزی اورعربی زبان میں الفاظ کے معنی مختلف ہوتے ہیں،انگریزی میں مختصر ناموں سے اسلامی ہستیوں اورمقامات مقدسہ کی تضحیک ہوتی ہے۔

خیبرپختونخوا اسمبلی کااجلاس سپیکر اسدقیصر کی زیرصدارت ہوا ،اجلاس میں نجی سودکی حالت امتناعی پر پابندی سمیت آٹھ بلوں کو پیش کیاگیا۔ خیبرپختونخوالمیٹیشن بل 2016ء کو متفقہ طور پر پاس کیاگیا سینئرصوبائی وزیرعنایت اﷲ نے لمیٹیشن بل کے پاس ہونے کے بعد ایوان کوبتایاکہ سپریم کورٹ اور اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے مخالفت کے بعد 1908ء کے لمیٹیشن بل میں ترمیم کرتے ہوئے ان کی دوشقوں کو ختم کردیاگیاہے ماضی میں اگرکسی کی جائیدادیاکوئی اورچیز اجارے پر کسی شخص کے پاس ساٹھ سال تک تو وہ خودبخوداسکامالک بن جاتااس شق کو اسلامی نظریاتی کونسل اورسپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دیاجسکے بعد قانون سازی کے ذریعے اس کو ختم کردیاگیاہے ۔

پرائیویٹ ممبران کی حیثیت سے پیپلزپارٹی کے فخراعظم وزیر،تحریک انصاف کے محمودجان ،قومی وطن پارٹی کے سلطان محمداورجماعت اسلامی کے اعزازالملک نے نجی سودکی حالت امتناعی پرپابندی کے حوالے سے بل کواسمبلی میں پیش کردیا۔بل کے تحت کوئی بھی شخص یا گروپ سودکی بنیاد پرکسی کوقرض نہیں دے سکتا اگرکوئی اس طرح کرتاہے تواس کو تین سے دس سال تک کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے اسی طرح جن لوگوں نے سود پرقرضہ دینے میں معاونت کی وہ بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔

سود پر قرضے کی عدم وصولی پراگرکسی کیساتھ مارپیٹ کی جاتی ہے تو اس کو پانچ سال تک قیدکی سزادی جائے گی۔ قانون کی رو سے اگرپولیس کسی کو گرفتارکرتی ہے تو کوئی بھی عدالت سودمیں ملوث افرادکوضمانت پررہا نہیں کرسکتااسی طرح عدالت کسی بھی راضی نامے کو قبول نہیں کریگی۔بل کے تحت اگرکسی نے اگرکسی نے مجموعی رقم کی سودکی ادائیگی اس رقم کی حد تک کی ہے تو وہ مزید ادائیگی اب نہیں کریگابل کے مطابق

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 20:46:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان