سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، سارک کانفرنس میں ظہرانے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:37:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:37:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:24:16 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:24:16 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:22:08 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:22:08 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:19:36 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:04:27 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:04:27 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:03:03 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 20:03:03
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، سارک کانفرنس میں ظہرانے میں عدم موجودگی کا تاثر غلط ہے، مہمانوں کی پوری عزت افزائی کی ، بھارتیوں کی طرح کسی کا منہ کالا نہیں کیا، گھر میں آکر تضحیک کر نے والوں کیلئے گھگو بن کر نہیں بیٹھ سکتے ،پاکستان کی تضحیک پر جواب دینا میرا فرض تھا ، ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، بھارتی وزیر داخلہ کو کہوں گا کہ یہ قوم نہ کسی کے تسلط میں رہ سکتی ہے نہ مقبوضہ کشمیر میں جاری آپریشن قابل قبول ہے، ظلم اوردھمکیاں برداشت نہیں ، ایک سیاسی جماعت کو سانپ سونگھ گیا، یہ جماعت چند ہفتے پہلے کشمیری عوام کو بے وقوف بناتی رہی، ، ولن ہیرو نہ بنیں ، آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے ،ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ ، نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا ، ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ، ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں ، میں نے کبھی نہیں کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا، عمران سے کہاکہ بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے دبئی کے محلات کا پوچھ لینا ، ایک ماہ 10 دن میں 3 کروڑ بارہ لاکھ شناختی کارڈزکی تصدیق ہوچکی، 30 ہزار لوگ ایسے شناخت ہوچکے جو لوگوں کے فیملی ٹری میں نہیں تھے، ، امریکی شہری کو ڈی پورٹ کیا جائے گا

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا پریس کانفرنس سے خطاب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء )وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں، سارک کانفرنس میں اپنی طرف سے دیئے گئے ظہرانے میں عدم موجودگی کا تاثر غلط ہے، حکومت پاکستان نے میزبان ملک کی طرح مہمانوں کی پوری عزت افزائی کی ، ہم نے بھارتیوں کی طرح کسی کا منہ کالا نہیں کیا، آپ کے گھر میں کوئی آئے اور آپ کی تضحیک کرکے چلا جائے اور آپ گھگو بن کر بیٹھے رہیں یہ کہاں کا احترام ہے ؟ مہمان کی عزت لازم لیکن پاکستان کی تضحیک پر جواب دینا میرا فرض تھا ، روایت سے ہٹ کر بھارتی وزیر داخلہ کو خصوصی پریزنٹیشن کی اجازت دی،ان کی تقریر میں جو باتیں آئیں تو مجھ پر لازم تھا کہ میں ان کا جواب دیتا،اگر میں نے غلط کہا تھا تو بھارتی وزیر داخلہ اسی ایوان میں جواب دے سکتے تھے،بھارتی وزیر داخلہ نے راجیہ سبھا میں جو کہا وہ یہاں کہتے تو میں ان کا جواب دیتا، ہم نے مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے، بھارتی وزیر داخلہ کو کہوں گا کہ یہ قوم نہ کسی کے تسلط میں رہ سکتی ہے نہ مقبوضہ کشمیر میں جاری آپریشن قابل قبول ہے، مسائل کا حل مذاکرات میں ہے، آپ کے پاس کوئی اور حل ہے تو ہمیں بتائیں، حملے بھی آپ کرتے ہیں، کشمیریوں کا قتل عام بھی کرتے ہیں، دھمکیاں بھی دیتے ہیں اور مذاکرات کے دروازے بھی بند کرتے ہیں، دنیا دیکھے اور بھارتی میڈیا دیکھے کہ غلطی پر کون ہے ، ایک سیاسی جماعت کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا، یہ وہی جماعت ہے جو چند ہفتے پہلے کشمیری عوام کو بے وقوف بناتی رہی،یہ وہ منافقت ہے جو اس وقت ہماری سیاست پر چھائی ہوئی ہے ، ولن یہاں ہیرو نہ بنیں، ملٹری حکومت کا حصہ ہوتی ہے ، آصف زرداری کو میری تعریف کی ضرورت ہے لیکن ان ڈھنڈورچیوں کو کیا پتہ، نیشنل ایکشن پلان کے چار نقاط پر سب سے زیادہ تیزی سے کام ہوا ، ایک ٹولہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو ہر چیز کا الزام مجھ پر ڈالتا ہے ، ایک پارٹی نے تہیہ کرلیا ہے کہ اس نے مجھے ٹارگٹ کرنا ہے، اپوزیشن لیڈر حکومت کے خلاف ہوتے ہیں لیکن وہ میرے خلاف ہیں ، وہ ذاتیات پر اتر آتے ہیں، میں نے کبھی نہیں کہ وہ میٹر ریڈر تھا اس مقام تک کیسے پہنچ گیا، جو بہت بڑے بنتے ہیں، مجھے پتہ ہے کہ ایل پی جی کا ٹھیکہ کس طرح ریگولرائز کیا گیا ہے، میں نے تو کبھی نام نہیں لیا ، عمران سے کہاکہ بلاول کو کنٹینر پر چڑھانے سے پہلے دبئی کے محلات کا پوچھ لینا ، ایک ماہ 10 دن میں 3 کروڑ بارہ لاکھ شناختی کارڈزکی تصدیق ہوچکی، 30 ہزار لوگ ایسے شناخت ہوچکے جو لوگوں کے فیملی ٹری میں نہیں تھے، غیر متعلقہ افراد کے شناختی کارڈز بلاک کردیئے ہیں، 14 غیر ملکیوں نے خود فون کرکے اپنے شناختی کارڈز اور پاسپورٹ واپس کیے،اندھیر نگری انشااﷲ ختم ہوجائے گی ، امریکی شہری پر 2011 میں گرفتاری کے وقت جاسوسی کے الزامات نہیں تھے، وہ قابل اعتراض سرگرمیوں میں ضرور تھا، جے آئی ٹی ر پورٹ اور عدالتی حکم کی روشنی میں اس امریکی شہری کو ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

وہ جمعہ کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہو ں نے کہا کہ امریکی شہری میتھیو بیرٹ کو بلیک لسٹ ہونے کے باوجود 24 گھنٹے میں ویزہ جاری کیا گیا۔ میتھیو بیرٹ کی جے آئی ٹی رپورٹ مل چکی ہے اس کو 2011ء میں پاکستان سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔ امریکی شہری کو خاص حساس سیکیورٹی علاقے میں موجود ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ وزارت داخلہ اور خارجہ کے پوچھنے پر کہا گیا کہ کمپیوٹر کی غلطی سے ویزہ جاری ہوا۔

انہو ں نے کہاکہ سینیٹر اعظم سواتی نے ایف آئی اے اہلکار کو بطور انعام ایک لاکھ روپے دئیے۔ ان کو ایک لاکھ روپے شکریہ کے ساتھ واپس کر رہا ہوں۔ ایف آئی اے اہلکار کو سرکاری طوپر ایک لاکھ روپے انعام دیا جا چکا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہاکہ 3 کروڑ 12 لاکھ شناختی کارڈز کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ شناختی کارڈز کی تصدیق کیلئے 33 لاکھ سے زائد لوگو ں نے از خود ناد را سے رابطہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ 30 ہزار غیر متعلقہ افراد کی فیملی ٹری میں شامل ہوئے۔ چوہدری نثار نے کہاکہ 14 غیر ملکیوں نے خود فون کر کے اپنے شناختی کارڈز اور پاسپورٹس واپس کئے ۔ لوگوں کی شکایت پر 5 ہزار شناختی کارڈز بلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزرائے داخلہ سارک کانفرنس میں میری طرف سے ظہرانہ نہیں عشائیہ تھا۔ میزبان ہونے کی حیثیت سے سارک کے تمام معزز مہمانوں کا مکمل خیال رکھا۔

بھارتی وزیر داخلہ نے بطور مہمان اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ جبکہ ان کی آمد پر پاکستانیوں نے مہذب انداز میں احتجاج کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہاکہ بھارتیوں کی طرح پاکستانیوں نے کسی معزز مہمان کا منہ کالا نہیں کیا۔ غلام علی ‘ نجم سیٹھی‘ شہر یار خان ‘ راحت فتح علی ‘ احمد خورشید قصوری کا کیا قصور تھا جن کو بھارت میں تھریٹ کا نشانہ بنایا گیا۔

بھارت میں معزز

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 20:22:08 :وقت اشاعت