گذشتہ سال شام جا کر داعشمیں شامل ہونے والی برطانوی لڑکی کی ہلاکت کا خدشہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 16:37:56 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:29:01 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:29:01 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:28:16 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:28:14 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:53 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

گذشتہ سال شام جا کر داعشمیں شامل ہونے والی برطانوی لڑکی کی ہلاکت کا خدشہ

لندن /دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)گذشتہ برس لندن سے شام جا کر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے والی تین لڑکیوں میں سے ایک خدیجہ سلطانہ کے خاندان کے وکیل نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ روسی بمباری میں ہلاک ہوگئی ہیں۔خیال رہے کہ 16 سالہ خدیجہ سلطانہ اپنی دو دوستوں 15 سالہ شمیمہ بیگم اور 15 سالہ عامرہ عباسی کے ہمراہ فروری 2015 میں لندن کے علاقے بیتھنل گرین سے استنبول کے لیے روانہ ہوئی تھیں جہاں سے آگے انھوں نے شام کا سفر کیا تھا۔

ان کے خاندان کے وکیل تسنیم آکونجی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ انھیں چند روز قبل رقہ سے خدیجہ کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی تھی تاہم وہ کسی آزاد ذریعے اس کی تصدیق نہیں کر سکے تھے۔ جس ہفتے وہ واپسی کے بارے میں سوچ رہی تھی اسی دوران آسٹریا سے آنے والی اس نوجوان لڑکی کو سرِ عام مارے جانے کی اطلاع ملی، جس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی تھی، میرے خیال سے خدیجہ نے اسے برا شگون سمجھا اور یہ خطرہ مول نہیں لیا۔

انھوں نے بتایا کہ دولت اسلامیہ کے حوالے سے خدیجہ جس طلسم کا شکار تھی وہ ٹوٹ چکا تھا اور وہ مایوس ہو کر واپس لوٹنا چاہتی تھیں لیکن وہ اس دہشت گرد گروپ کی جانب سے سخت سزا کے خوف کے باعث ایسا نہیں کر پائیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ خدیجہ کا خاندان بہت بری صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔یہ جاننے سے زیادہ برا کچھ نہیں ہو سکتا کہ آپ کا کوئی دوست یا خاندان کا رکن مارا جائے، وہ ایک نوجوان لڑکی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/08/2016 - 15:24:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان