امریکی اور کرد فوج کے مشترکہ آپریشن میں داعشی وزیر تیل ہلاک
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:29:01 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:29:01 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:28:16 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:28:14 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 15:24:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:53 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:18 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:38:18
پچھلی خبریں - مزید خبریں

امریکی اور کرد فوج کے مشترکہ آپریشن میں داعشی وزیر تیل ہلاک

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)عراق کے صوبہ کردستان میں کرد فورسز اور امریکی فوج نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن کے دوران شام کی سرحد کے قریب داعش کے وزیر تیل کو ہلاک کردیا ۔غیر ملی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ کرد فورسز اور امریکی فوج نے ایک مشترکہ خفیہ آپریشن کے دوران شام کی سرحد کے قریب دولت اسلامی "داعش" کے ایک اہم کمانڈر کو ہلاک کردیا ہے۔

ہلاک ہونے والے داعشی کمانڈر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ تنظیم کا پٹرولیم کا وزیر تھا۔کردستان کی صوبائی قومی سلامتی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے کی انسداد دہشت گردی پولیس اور امریکی اسپیشل فورس کے اہلکاروں نے عراق اور شام کی سرحد پر واقع القائم شہر میں رات کی تاریکی میں ایک آپریشن کیا جس میں داعش کا اہم کمانڈر ہلاک ہوگیا۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ مقتول داعشی کمانڈر کی شناخت سامی جاسم محمد الجبوری کے نام سے کی گئی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے الجبوری کا نام ان 15 اہم کمانڈروں میں شامل کیا تھا جو داعش کی تیل اور گیس کی فروخت کے ذریعے مالی معاونت کررہے ہیں۔ اس آپریشن کی مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔خیال رہے کہ القائم کا علاقہ کردستان کی فوج البیشمرکہ کے مرکز سے کوئی 200 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ امریکی حکام کی طرف سے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔امریکا سنہ 2014 سے عراق اور شام میں داعش کے خلاف زمینی اور فضائی آپریشن میں شامل ہے۔ ایک ماہ قبل بھی کردستان کے زیرانتظام علاقے کرکوک میں امریکی فوجیوں نے ایک خفیہ آپریشن میں داعش کے متعدد جنگجو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔
12/08/2016 - 15:24:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان