ایران میں پھانسی پانے والے سنّی قیدیوں کی املاک بطور مال غنیمت تقسیم
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:21:54 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:21:54 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:20:44 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:20:44 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 14:16:22 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:58 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:58 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:14 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:22:46
پچھلی خبریں - مزید خبریں

ایران میں پھانسی پانے والے سنّی قیدیوں کی املاک بطور مال غنیمت تقسیم

جیل حکام نے قیدیوں میں ملکیتوں اور متعلقہ اشیاء کو تقسیم کردیا،انسانی حقوق تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مذمت

نیویارک/تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)ایران کے شہر کرج کی رجائی جیل میں حکام نے دو اگست کو پھانسی دیے جانے والے سنی کارکنان کی ملکیتوں اور متعلقہ اشیاء کو بقیہ قیدیوں میں مال ِغنیمت کے طورپر تقسیم کردیا، اس بات کا انکشاف انسانی حقوق کی ایجنسی کی رپورٹ میں کیا گیا ۔ایجنسی کے مطابق قیدیوں نے موت کے گھاٹ اتارے جانے والے کرد سنی قیدیوں کی ملکیتوں اور متعلقہ اشیاء کو چوری کر لیا۔

اس حرکت پر بقیہ سنی سیاسی قیدیوں نے احتجاج کیا تاہم جیل کے ذمہ داران نے کہا کہ یہ یہ اشیاء مال غنیمت ہیں اور جیل کی انتظامیہ کو ان میں تصرف کا حق حاصل ہے۔پورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رجائی شہر جیل کے چوتھے سیکٹر کے ڈائریکٹر نے چند روز قبل دسویں ہال کے دروازے کا تالا توڑ دیا۔ یہ ہال پھانسی دیے جانے والے سنی قیدیوں کے لیے مخصوص تھا۔ ڈائریکٹر نے بقیہ قیدیوں سے کہا کہ تم لوگوں کو حق ہے کہ یہ مال غنیمت آپس میں تقسیم کر لو۔

یاد رہے کہ ابھی مزید 18 سنی قیدی ہیں جن کو جلد موت کے گھاٹ اتارے جانے کا خطرہ ہے۔ تاہم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 5 قیدیوں کو انفرادی کوٹھریوں سے ان کے سابقہ سیکٹرں میں واپس بھیج دیا گیا جہاں انہوں نے دیکھا کہ ان کی ملکیتیں بھی چوری ہوچکی ہیں۔ جب ان قیدیوں نے جیل کی انتظامیہ سے مسروقہ اشیاء واپس لوٹانے کا مطالبہ کیا تو جیل کے ایک ذمہ دار شجانی نے ان سے کہا کہ یہ تمام تر اشیاء اور سامان مال غنیمت کی حیثیت رکھتے ہیں اور میں ان کا فیصلہ کروں گا۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں سنی قیدیوں کے خلاف اجتماعی پھانسیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ "انسانی حقوق کے حوالے سے تہران کے ریکارڈ پر ایک سیاہ دھبہ ہے۔

12/08/2016 - 13:24:58 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان