جرمن وزیر خارجہ کا حلب تک رسائی دیے جانے کا مطالبہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ اگست

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:24:13 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:22:46 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:21:00 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:21:00 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 13:21:00 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 12:43:40 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 12:41:15 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 12:38:41 وقت اشاعت: 12/08/2016 - 12:30:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

جرمن وزیر خارجہ کا حلب تک رسائی دیے جانے کا مطالبہ

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 اگست ۔2016ء)جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک بار پھر اس امر پر زور دیا ہے کہ شام کے محصور شہر حلب تک انسانی امداد پہنچانے کے لیے راستہ دیا جائے۔ جرمن اخبار فرانکفرٹر الگمائنے سے گفتگو میں شٹائن مائر نے کہا کہ کسی بڑے انسانی المیے سے بچنے کے لیے محض تین گھنٹے روزانہ کی یکطرفہ فائر بندی کافی نہیں ہے۔

روس کی طرف سے اعلان کردہ فائر بندی کے باوجود شام کے اس دوسرے بڑے شہر میں بدستور شدید لڑائی جاری ہے۔ شٹائن مائر نے کہا کہ اگر ہتھیار خاموش ہو جائیں اور امدادی کارکن کسی خطرے کے بغیر آگے جا سکیں تو حلب میں محصور انسانوں تک امدادی اشیا پہنچائی جا سکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اڑتالیس گھنٹے کی فائر بندی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حلب کے لاکھوں باسیوں کو خوراک اور پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
12/08/2016 - 13:21:00 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان