کے ایم سی سمیت تمام اداروں کی سندھ حکومت مالی معاونت کررہی ہے اور کرتی رہے گی ، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:18:07 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:15:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:15:47 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:15:46 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:14:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:14:09 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:11:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:11:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:11:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:10:05 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:10:05
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

کے ایم سی سمیت تمام اداروں کی سندھ حکومت مالی معاونت کررہی ہے اور کرتی رہے گی ، وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء) وزیر بلدیات سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ کے ایم سی سمیت تمام اداروں کی سندھ حکومت مالی معاونت کررہی ہے اور کرتی رہے گی تاہم اب ان اداروں کو بھی اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا۔ کے ایم سی کے زیر انتظام 13 بڑے اسپتالوں میں ادویات اور دیگر ضروری سامان کی قلت کی رپورٹ پر خود وزیر اعلیٰ سندھ نے 17 کروڑ روپے کی خصوصی گرانٹ جاری کی ہے اور آئندہ مالی سال کے لئے مزید گرانٹ بھی جاری کی جائے گی تاکہ ان اسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی کوئی کمی نہ ہونے پائے۔

گجر نالے سمیت دیگر نالوں پر رہنے والوں ہو ہم ہٹانا نہیں چاہتے تھے لیکن ایسا نہ کرتے تو شہر کے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کے لئے 10 ارب کے ترقیاتی منصوبوں پر عملی کام کا آغاز ہوگیا ہے اور وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے اس کے لئے دسمبر 2016 تک کی ڈیڈ لائن ملی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ یہ تمام منصوبے اپنی مقررہ مدت میں مکمل کرلئے جائیں گے۔

کراچی میں محکمہ بلدیات کے تحت چلنے والے اسپتالوں کا بورڈ تشکیل دیا جارہا ہے تاکہ ان اسپتالوں کی حالت زار کو مزید بہتر بنایا جاسکے اور ان کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کے ایم سی نذیر حسین کڈنی سینٹر میں کے ایم سی کے زیر انتظام چلنے والے 13 بڑے اسپتالوں کو دو ماہ کے لئے ادویات کی فراہمی کی منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایڈمنسٹریٹر کراچی لئیق احمد، ڈپٹی کمشنر سینٹرل کیپٹن فرید الدین مصطفی، سینئر ڈائریکٹر میڈیکل سروسز ڈاکٹر محمد علی عباسی، بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام اسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر بھی شریک تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو نے کہا کہ میں بحیثیت وزیر بلدیات کا حلف لینے کے بعد پہلی بار جب کے ایم سی کے زیر انتظام اسپتالوں کے دورے پر گیا تو وہاں کے مسائل اور ادویات سمیت دیگر ضروری اشیاء کی کمی کی شکایات کا نوٹس لیا اور میں نے اسی وقت اسپتالوں کا بورڈ بنانے کی تجویز دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹر کراچی نے تمام اسپتالوں کے ایم ایس سے مشاورت کے بعد ادویات کی فراہمی جو گذشتہ 5 برس سے فنڈز کی کمی کے باعث معطل تھی اس کی سمری بھیجی اور میں نے خود وزیر اعلیٰ سندھ سے کے ایم سی کی اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کے لئے 17 کروڑ کی گرانٹ نہ صرف منظور کروائی بلکہ آج اس گرانٹ سے 15 کروڑ سے زائد کی ادویات خرید لی گئی ہیں اور ان اسپتالوں کے ایم ایس کے سپرد کی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی اولین ترجیح عوام کو صحت ، تعلیم اور دیگر شعبہ جات میں ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی سندھ حکومت کے ایم سی کو 50 کروڑ روپے ماہانہ کی گرانٹ جاری کررہی ہے لیکن ہم چاہتے ہیں کہ اس کا مستقل حل نکالا جائے اور جو ادارہ جو سندھ حکومت کو کسی وقت میں گرانٹ دیا کرتا تھا آج یہ ادارہ مالی طور پر کیوں مستحکم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تمام اداروں کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے لئے اقدامات کرنے ہوں گے اور اپنے مالی وسائل کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کے لئے ٹیکس کے نظام کو موثر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے ایم سی اور تمام ڈی ایم سیز کو گرانٹ جاری کررہی ہے اور کرتی رہے گی تاہم اب یہ گرانٹ ان کی کارکردگی سے مشروط کی جائے گی۔ انہوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 22:14:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان