سائبر کرائم بل میں شامل 23 جرائم اور ان کی سزاؤں کی تفصیلات
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:02:25 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:00:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:00:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 22:00:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:58:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:58:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:57:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:52:35 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:52:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:44:31 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:31:28
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

سائبر کرائم بل میں شامل 23 جرائم اور ان کی سزاؤں کی تفصیلات

کسی بھی معلوماتی نظام یا اعداد و شمار تک جان بوجھ کر غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کرنے پر تین ماہ قید ،50ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں , کسی شخص کے چہرے کی تصویر فحش تصویر یا ویڈیو پر چسپاں کرنے، کسی فرد کی شہوت انگیز تصویر یا ویڈیو کی نمائش یا اشاعت کرنے، کسی شخص کو جنسی فعل یا عریاں تصویر یا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرنے یا اسے جنسی فعل کیلئے قائل کرنے، ترغیب دلانے یا مائل کرنے پر پانچ سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء)قومی اسمبلی میں جمعرات کو کثرت رائے سے منظور کئے گئے سائبر کرائم بل میں ایسے 23 جرائم کی وضاحت کی گئی ہے، جن پر ضابطہ فوجداری کی 30 دفعات لاگو ہو سکیں گی ان جرائم اور ان کی سزاؤں کی تفصیل کے مطابق معلوماتی نظام یا ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی معلوماتی نظام یا اعداد و شمار تک جان بوجھ کر غیر قانونی طریقے سے رسائی حاصل کرنے پر تین ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا آگے بھیجنے والے فرد کو زیادہ سے زیادہ چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔کسی بھی ڈیٹا سسٹم میں جزوی یا مکمل مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے والے شخص کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔کسی بھی لازمی بنیادی ڈھانچے (کریٹیکل انفراسٹرکچر) کے ڈیٹا کی جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا منتقلی پر زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور دس لاکھ جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

لازمی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ڈیٹا کو جان بوجھ کر یا بغیر اجازت نقل کرنے یا آگے بھیجنے والے فرد کو زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی جا سکے گی۔لازمی بنیادی ڈھانچے کے کسی بھی ڈیٹا سسٹم میں جزوی یا مکمل مداخلت یا اسے نقصان پہنچانے پر زیادہ سے زیادہ سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔کسی بھی معلوماتی نظام یا آلے کی مدد سے دہشت گردی اور دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں اور ان سے منسلک افراد کی سرگرمیوں کی تشہیر کے لیے معلومات تیار کرنے اور یا ان کی نشر و اشاعت پر سات سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اس مسودہ قانون میں لازمی بنیادی ڈھانچے کے ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی،غیر مجاز نقل اور اس میں مداخلت کے علاوہ جرم کی تشہیر کو سائبر دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت یا عوام میں خوف و ہراس یا عدم تحفظ پیدا کرنے کی کوشش اور سماج میں خوف پھیلانے کی کوشش یا اس سے متعلق دھمکی بھی سائبر دہشت گردی کے زمرے میں آئے گی۔بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی نفرت کو بڑھاوا دینے یا اس کی دھمکی دینا بھی سائبر دہشت گردی ہو گا اور ان تمام جرائم پر 14 برس تک قید اور پانچ کروڑ روپے تک جرمانہ ہوگا۔

بین المذاہب، فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت کو بڑھاوا دینے والی معلومات تیار کرنے یا اسے نشر کرنے پر سات سال قید اور جرمانے کی سزائیں دی جائیں گی۔دہشت گردی کی غرض سے معلومات تیار کرنے، فنڈ طلب کرنے، لوگوں کو بھرتی کرنے یا دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنیپر سات سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔کسی بھی انفارمیشن سسٹم، ڈیوائس یا ڈیٹا میں مداخلت یا دھوکہ دہی کے مقصد کے تحت اس میں ڈیٹا داخل کرنے، خارج کرنے، چھپانے یا اس میں ترمیم کرنے پر تین سال تک کی قید، ڈھائی لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

دھوکے کی نیت سے کسی معلوماتی نظام یا آلے میں مداخلت، یا اس کے استعمال، کسی شخص کو دھوکہ دینے یا اسے دھوکے سے تعلق بنانے پر مائل کرنے پر دو سال کی قید یا ایک کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔سائبر جرائم میں مدد کے لیے آلات فراہم کرنے کی پیشکش کرنے، اس کی تیاری، برآمد یا آلات کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی معاونت پر چھ ماہ کی قید یا 50 ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔

بغیر کسی اختیار کے کسی دوسرے شخص کی شناختی معلومات حاصل کرنے، فروخت کرنے، قبضے میں رکھنے، منتقل کرنے،

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 21:58:12 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان