سٹیبلشمنٹ کی سوچ نہ بدلی تو پھر کوئی نیشنل ایکشن پلان کام نہیں آئے گا،سچ بولنے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:58:12 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:57:08 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:52:35 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:52:34 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:44:31 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:31:28 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:31:28 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:17:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:17:58 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:16:51 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:16:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:31 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:02:55 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:33 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:35 وقت اشاعت: 21/02/2017 - 21:18:19 کوئٹہ کی مزید خبریں

سٹیبلشمنٹ کی سوچ نہ بدلی تو پھر کوئی نیشنل ایکشن پلان کام نہیں آئے گا،سچ بولنے والوں کو غدار کہاجارہاہے، پارلیمنٹ میں بھی سچ نہیں بولاجا رہا توپھر ہماری زبانوں پر بھی پٹیاں باندھ دی جائیں ،حب الوطنی کے دعویداروں کو بخوبی جانتے ہیں ، محموداچکزئی نے پارلیمنٹ میں کھری کھری سنائیں، ان پر مقدمہ بنا توبار کی قیادت اوروکیل کادفاع کرینگے

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صد عاصمہ جہانگیر سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء ) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کی رہنماء عاصمہ جہانگیر نے کہاہے کہ اگراسٹیبلشمنٹ کی سوچ نہیں بدلی تو پھر کوئی نیشنل ایکشن پلان کام نہیں آئے گا،جو لوگ سچ بول رہے ہیں انہیں دشمن اور غدار کہاجارہاہے اگر پارلیمنٹ میں بھی سچ نہیں بولاجا رہا توپھر ہمارے زبانوں پر بھی ٹائپیں لگادی جائے جو محب الوطنی کے دعویدار ہے انہیں ہم جانتے ہیں کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کن کے کوکھ سے پیدا ہوئے ہیں محمودخان اچکزئی نے پارلیمنٹ میں سچ بولا اور کھری کھری سنائیں جس نے بھی اس کیخلاف کیس کیا بار کی لیڈرشپ اوروکیل ان کادفاع کرینگے ۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گزشتہ روز بلوچستان ہائی کورٹ میں سانحہ کوئٹہ کے شہداء کی فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیاعاصمہ جہانگیر کاکہناتھاکہ جمعرات کے روز بھی کوئٹہ میں فیڈرل شریعت کورٹ کے جج کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہمیں پہلے تھریٹس تھی بلکہ اب بھی بہت سے ایسوسی ایشن کو تھریٹس آرہی ہے ،ہمیں ٹریلر دیکھایاجارہاہے لیکن اس صورتحال میں بھی حکومتی سنجیدگی نظر نہیں آرہی ہم تولاشیں دیکھ کر گھبرا گئے پتہ نہیں شہداء اور زخمیوں کے لواحقین کیا سوچتے ہونگے انہوں نے کہاکہ یہاں ہمیشہ واقعات کے بعد ہی سیکورٹی انتظام کیاجاتاہے سیکورٹی والے بھی کیا کرے جب تک دہشت گردی کے جڑوں تک نہیں جائینگے اس وقت تک اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے محمود خان اچکزئی نے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں سچ اور کھری کھری باتیں کی جو بڑی ٹھیک ہے مگر لوگوں کی منہ بندی میں لگے ہوئے عناصر اور بعض نام نہاد اینکر چاہتے ہیں کہ لوگوں کی زبانیں

مکمل خبر پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

11/08/2016 - 21:31:28 :وقت اشاعت