20 کروڑ عوام آج سے اپنے آپ کو رائزنگ پاکستان کے طور پر متعارف کرائیں ، علاقائی تعاون ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات اگست

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:13:22 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:12:16 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:11:10 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:11:10 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:11:10 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:09:26 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:09:26 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:03:10 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:02:00 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 21:02:00 وقت اشاعت: 11/08/2016 - 20:58:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

20 کروڑ عوام آج سے اپنے آپ کو رائزنگ پاکستان کے طور پر متعارف کرائیں ، علاقائی تعاون معاشی ترقی کا اہم ستون ہے ،نجی شعبہ کو ملکی ترقی کے لئے آنا ہو گا ، پاکستان اب استحکام کی راہ پر گامزن ہے ، ملک کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور موجودہ پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، عوام کو موجودہ حکومت کی سکیورٹی اوراقتصادی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے، ،وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبا ل کاوژن پاکستان 2025 ء کے دو سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب

اسلام آباد ۔ 11 اگست (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 اگست ۔2016ء) وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبا ل نے کہاہے کہ 20 کروڑ عوام آج سے اپنے آپ کو رائزنگ پاکستان کے طور پر متعارف کرائیں ، علاقائی تعاون معاشی ترقی کا اہم ستون ہے ،نجی شعبہ کو ملکی ترقی کے لئے آنا ہو گا ، پاکستان اب استحکام کی راہ پر گامزن ہے ، ملک کی ترقی کیلئے سیاسی استحکام اور موجودہ پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، عوام کو موجودہ حکومت کی سکیورٹی اوراقتصادی پالیسیوں پر مکمل اعتماد ہے، حکومت نے وژن 2025 کا اجراء آج سے دو سال پہلے 11اگست 2014 ء کو کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو وژن پاکستان 2025 ء کے دو سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ وزیر اعظم محمد نوازشریف کی ہدایت پر وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے پاکستان وژن 2025 ء کے تحت اصلاحات کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے ادارہ جاتی تبدیلی اور مضبوط پر فارمنس مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے سرکاری شعبے اور سول سروس میں جدت لانے کے لئے اصلاحات کا عمل شروع کیا ۔

انہوں نے کہاکہ عالمی مسابقت کو مدنظر رکھتے ہوئے وژن 2025ء مرتب کیا گیا، جس پر تمام صوبوں سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان نے بھی اتفاق کیا۔انہوں نے کہاکہ وژن 2025 ء صنعتی و اقتصادی ترقی، اعلٰی تعلیم کا فروغ ،سائنسی علوم اور انسانی وسائل کی ترویج ، ادارہ جاتی اصلاحات ،توانائی ودیگر وسائل کی فراہمی ،اور علاقائی ر وابط کے فروغ کے لئے ایک جامع فریم ورک ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستانی معیشت میں بہتری کیلئے توانائی کے بحران کو حل کرنا ناگزیر ہے، وژن اس کیلئے ایک جامع پروگرام دیتا ہے، نجی شعبے کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وژن نے نجی شعبے کو ترقی دینے کے لئے مفصل رہنما اصول وضع کیے ہیں۔انہوں نے کہاکہ روڈ انفراسٹرکچر اور جدیدٹرانسپورٹ پاکستان کے وژن 2025 کا حصہ ہے۔

علاقائی روابط کی جانب پاکستان چین اقتصادی راہدری پاکستان کے عزم کی واضح مثال ہے جس سے تین ارب سے زائد لوگ مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ و ژن 2025 ء کے تحت ملک کو اقتصادی و سماجی ترقی کی نئی راہوں پر ڈالا جائے گا اور پاکستان کا شمار دنیا کی 25بڑی ترقی یافتہ معیشتوں میں ہو گا،وژن کے تحت پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی جس سے لوگوں کو تعلیم ، صحت ، پینے کا صاف پانی ، اور دیگر سہولیات میسر ہو سکیں گی۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو سالوں میں ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا ئے جس کے مثبت اثرات آنا شروع ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 15 سالوں میں کسی نے بھی ملک کی ترقی کے بارے میں کوئی قدم نہیں اٹھا یا اور ہمارے ساتھ کو ممالک کھڑے تھے وہ ہم سے آگے نکل گئے ہے، جس کی وجہ سے امن وامان ، انرجی بحران ، معیشت اور ترقی کا پہیہ نہ چل سکا ۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری پر راغب ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کاسا .1000اور ٹاپی جیسے انفرااسٹرکچر منصوبے شروع کیئے ہیں،وسائل کے تناسب سے علاقائی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ نہیں مل رہا ،اگر انفراسٹرکچر کے مسائل حل ہو جائیں تو تجارتی سرگرمیوں کو مزید فروغ مل سکتا ہے ۔

انہوں نے کہاکہ انتظامی شعبے میں بھی مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وسطی ایشیا اور پاکستانی تجارتی اداروں کے درمیان روابط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ جب نالج سے ایکشن کی طرف بڑھا جائے ،ملک کو ترقی دینی ہے تو برآمدات کو فروغ دینا ہو گا عالمی منڈیوں میں کمی کا رجحان ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں 10 ہزار 4 سو میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے 14 منصوبے دسمبر 2018 ء تک مکمل کئے جائیں گے جس کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابوپایا جائے گا ۔

انہوں نے کہاکہ یہ منصوبے سیپک کے تحت مکمل ہونے کے بعد ملک کے معاشی وسماجی حالات میں تیزی سے بہتری آئے گی ۔ انہوں نے کہاکہ چین کی کمپنیاں10 ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل شبانہ روز محنت کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ چین کی کمپنیاں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشنز لائنز کے بہتری کے لئے بھی کام کر رہی ہے جو فی الحال زیادہ بوجھ برداشت کرنے کے لئے قابل نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ تھر میں 6600 میگاواٹ کول پاور پلانٹ کی تنصیب کئے جائیں رہے ہیں ۔

11/08/2016 - 21:09:26 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان